.

مسلح ملیشیاؤں کے سبب طرابلس بنا منجدھار، لیبیائی وزیر داخلہ کا مشکلات کا اقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں وفاق حکومت کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ انہیں وفاق حکومت کے زیر انتظام اُن مسلح ملیشیاؤں کے مرکب سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کا لیبیا کے مغربی حصے پر کنٹرول ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعے کی شام امریکی خبر رساں ایجنسی AP کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ باشاغا کے مطابق وہ ان گروپوں کے تعین کا ارادہ رکھتے ہیں جن کو غیر مسلح کیا جانا چاہیے اور جن کو سیکورٹی اداروں میں کھپایا جا سکتا ہے تاہم اس منصوبے پر عمل درامد میں مشکلات درپیش ہیں۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ بعض گروپ طرابلس میں دیگر ذمے داران کے ساتھ حلیف بنے ہوئے ہیں۔ ان کا بعض اداروں پر کنٹرول ہے جن میں انٹیلی جنس وغیرہ شامل ہیں۔ باشاغا کا اشارہ طرابلس کی ان ملیشیاؤں کی جانب تھا جو صدارتی کونسل کے سربراہ فائز السراج کی حلیف ہیں۔

وزیر داخلہ نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ آنے والے وقت میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ ماضی میں کئی مرتبہ دارالحکومت طرابلس میں وفاق حکومت کی ملیشیاؤں کے درمیان اداروں اور اختیارات کے حوالے سے تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔ اسی طرح دو دھڑوں کے بیچ تنازعات بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ ان میں ایک دھڑا فائز السراج اور دوسرا فتحی باشاغا کی پیروکار ہے۔

دوسری جانب باشاغا نے مغربی علاقے میں شدت پسندوں اور انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف عسکری کارروائی کی تیاری کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اس کارروائی میں مدد کرے۔

لیبیا میں مخصوص ٹولے غیر قانونی مہاجرین کی یورپی ممالک اسمگلنگ کے حوالے سے سرگرم ہیں۔ یہ افراد سیکورٹی اداروں سے دور رہ کر اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اور بعض مرتبہ اداروں کے لوگوں کے ساتھ ساز باز بھی شامل ہوتا ہے۔