.

کیا ٹرمپ کو قبل از وقت ہٹانا اور مواخذہ کرنا آئینی طور پر ممکن ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈونلڈ ٹرمپ صرف دو ہفتے کے لیے وائٹ ہائوس کے مہمان رہ گئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ٹرمپ ویسے ہی اقتدار چھوڑنے والے واہیں ایوان نمائندگان میں اکثریت رکھنے والی ڈیموکریٹک پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ صدر کو ہٹانے کے لیے پیر کو ایک بل پیش کرے گی لیکن مواخذے کے معاملے کو آئینی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جس سے سیاسی، آئینی اور لاجسٹک سوالات اٹھتے ہیں جو امریکی تاریخ میں شاذ و نادر ہی دیکھا گیا ہے۔ کسی بھی صدر پر کبھی بھی دو بار یا اپنے عہدے کے آخری ایام میں مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی کسی صدر کو سزا سنائی گئی ہے۔

اخبار "دی نیویارک ٹائمز" کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے لیے تھوڑا وقت باقی رہنے اور ان کے طرز عمل کی سنگینی کے پیش نظر قانون ساز بھی آئین میں مواخذہ کی ایک شق کا جائزہ لے رہے ہیں جو انھیں ٹرمپ کو دوبارہ وفاقی عہدے پر فائز ہونے سے روکنے کی اجازت دے سکتی ہے۔

اخبار 'الشرق الاوسط' نے لکھا ہے کہ سینیٹ میں اب بھی ریپبلکن کا غلبہ میں ہے۔ اس لیے مواخذے اور صدر کو قبل از وقت عہدے سے ہٹانے کے بل کی منظوری کے امکانات رواں ماہ کی 19 تاریخ تک یعنی نو منتخب صدر جوبائیڈن کے منصب اقتدار پر فائز ہونے تک ہیں۔

ٹرمپ کے استعفیٰ یا ہٹانے کا مطالبہ کرنے والوں کی فہرست میں متعدد ری پبلیکن سینیٹرز کا اضافہ ان کوششوں میں متوازن اضافہ نہیں۔ خاص طور پر چونکہ قانونی اور رسمی رکاوٹوں سے اس عمل پر جلد عملدرآمد میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہیں۔

آئین کانگریس کو اجازت دیتا ہے کہ وہ مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی صدور یا دیگر ایگزیکٹو برانچ کے عہدیداروں کو برطرف کر دے۔ اگر قانون سازوں کو یقین ہے کہ صدر یا مواخذے کا نشانہ بننے والے عہدیدار "غداری، رشوت یا دیگر بڑے جرائم اور بدانتظامی" کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سینیٹ میں سبکدوش ہونے والے ریپبلکن اکثریتی رہ نما سینیٹر مِچ مک کونل نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو مواخذے کے طریق کار کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک میمورنڈم گردش کر رہا ہے۔ اگر ایوانِ نمائندگان نے اُنہیں ایک سال کے دوران دوسری صدر کے خلاف مہم شروع کی ہے۔

میمو میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ایوان نمائندگان مواخذے کے مضامین کی منظوری دے دیتی ہے اور 19 جنوری سے قبل یا اس کے بعد اس کو جب سینیٹرز تعطیلات کے بعد اس پر کارروائی کرتے ہیں تو وہ صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔

میک کونیل کا کہنا ہے کہ اگر غالبا ایوان نمائندگان ٹرمپ کو عہدے سے بچنے کے 10 دنوں میں مسترد کرتا ہے۔ تو سب سے زیادہ امکان یہ ہے کہ سینیٹ کو ایوان نمائندگان کی جانب سے اس مہینے کی 19 تاریخ کو اس اقدام کے بارے میں مطلع کرنے کا خط موصول ہوگا۔ اس سے سینیٹ کو مواخذے کے کاغذات کو قبول کرنے کا اختیار ملے گا مگر اس پر کارروائی کے لیے کوئی بھی اقدام نئے صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی ہوگا۔

امریکی اخبارات میں شائع ہونے والے میمو کے مطابق سینیٹ کا مقدمہ صدر ٹرمپ کی میعاد ختم ہونے کے بعد، 20 جنوری کو ان کی میعاد ختم ہونے کے ایک گھنٹہ بعد یا 21 جنوری کو شروع ہوگا۔ دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ کو "خط موصول ہوسکتا ہے جس میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ایوان نمائندگان نے سینیٹ کی رخصت کے دوران صدر کو طلب کیا ہے لیکن سیکریٹری ایوان اگلے باقاعدہ اجلاس تک ارکان کو اس پیغام سے آگاہ نہیں کرے گا۔