.

سعودی عرب:امریکاکے حوثی ملیشیاکودہشت گرد گروپ قراردینے کے فیصلے کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے امریکا کے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو دہشت گرد قرار دینےکے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے۔امریکا نے حوثی ملیشیا کے علاوہ اس کے تین لیڈروں کو بھی عالمی دہشت گرد قراردیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے سوموار کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ’’امریکا کا اقدام یمنی حکومت کی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کی خلاف ورزیوں اور اس سے لاحق خطرات کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ ہے۔اس ملیشیا کی کارروائیوں کے نتیجے میں یمنی عوام کی انسانی صورت حال ناگفتہ بہ ہوچکی ہے اور ان کےعلاوہ عالمی امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔‘‘

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارتِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ’’اس اقدام سے حوثی ملیشیا کی دہشت گردی کی کارروائیوں کے خاتمے میں مدد ملے گی اور اس کے پشتی بانوں کی اس گروپ کو اسلحہ ،ڈرونز ، ہتھیار اور فنڈزمہیّا کرنے میں حوصلہ شکنی ہوگی۔‘‘

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے تین لیڈروں کو بھی خصوصی عالمی دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا۔

انھوں نے ایک سرکاری بیان میں کہاکہ’’امریکی محکمہ خارجہ انصاراللہ (حوثی ملیشیا) کو غیرملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے کانگریس کو میرے ارادے سے آگاہ کردے گا۔اس کو امیگریشن اور نیشنیلٹی ایکٹ کی شق 2019ء اورایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت خصوصی عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا جارہا ہے۔‘‘

انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ’’میں انصاراللہ کے تین لیڈروں عبدالملک الحوثی، عبدالخالق بدرالدین الحوثی اور عبداللہ یحییٰ الحکیم کو خصوصی دہشت گرد قرار دے دوں گا۔انھیں دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے سے اس گروپ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔نیزحوثی ملیشیا کودہشت گردی کی کارروائیوں پر قابل مواخذہ قرار دیا جائے گا۔‘‘

یمن کی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکا کے حوثیوں کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا یہ اقدام حکومت کی حوثی ملیشیا کو سزا دینے کی کاوشوں کے عین مطابق ہے۔

یمنی وزیرخارجہ احمد عواد بن مبارک نے ایک بیان می کہا کہ ’’چھے سال کی جنگ اور افراد پر مختلف پابندیوں کے نفاذ کے بعد ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ حوثیوں پر ہر طرح کا قانونی اور سیاسی دباؤ ڈالا جانا چاہیے تاکہ بحران کے پُرامن حل کے لیے سازگار ماحول بنایا جاسکے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو ایک غیرملکی دہشت گرد قرار دیاجانا چاہیے۔حوثی نہ صرف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث ہیں بلکہ تنازع کو طول دینے اور دنیا میں بدترین انسانی بحران کے بھی ذمے دار ہیں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں