.

ہنری کیسنجر ایران سے معاہدہ ’ری اوپن‘ کرنے کیوں معترض ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق سیکرٹری خارجہ ہنری کیسنجر نے نئی امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو ’ری اوپن‘ کرنے سے باز رہے۔ کیسنجر کے بہ قول ایسا کرنے سے مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔

ستانوے سالہ سابق امریکی سفارتکار کا یہ بیان اسرائیلی اخبار یروشیلم پوسٹ میں شائع ہوا ہے۔ ’’ہمیں خود کو بے وقوف نہیں بنانا چاہئے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایران سے معاہدے کی روح، جس میں وقت کی تحدید اور بچاؤ کی دفعات مشرق وسطیٰ میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے سوا اور کچھ فائدہ نہیں پہنچائیں گی۔ اس سے خفیہ طور پر کشیدگی کی صورت حال پیدا ہو گی، جو جلد ہی منظر عام پر آ جائے گی۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ایران میں نیوکلیئر صلاحیتوں کا ارتقا ایک امتحان ہے۔ اگر اسے روکا جا سکے تو بہتر ہو گا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایران سے مذاکرات نہ کیے جائیں۔‘‘

ہنری کیسنجر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو عرب اسرائیل معاہدوں کے نتیجے میں ملنے والی کامیابیوں کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں امریکا میں اقتدار سنبھالنے والی نئی قیادت سے کہوں گا کہ ہم اچھی راہ پر چل رہے ہیں۔ حالیہ عرب۔ اسرائیل معاہدوں نے مشرق وسطیٰ میں نئے امکانات کا دروازہ کھول دیا ہے۔

کیسنجر کے بہ قول عرب ملکوں یہ جان چکے ہیں کہ وہ مغربی دنیا اور اسرائیل کے ساتھ مسلسل کشیدگی کی فضا میں زندہ نہیں رہ سکتے، تو ایسے میں انھوں نے اپنے بچاؤ کی راہ اختیار کر لی۔

اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے والی چار ریاستوں نے بالآخر یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ ان کے قومی مفادات ان کے نظریات سے لگا نہیں کھاتے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کو بھی اپنے ’’حتمی مقاصد‘‘ کو خیرباد کہتے ہوئے ممکنہ عبوری کامیابیوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جانا چاہئے۔

ہنری کیسنجر امریکی صدر رچرڈ نکسن اور جیرالڈ فورڈ کے ادوار صدارت [1969 – 1976] کے دوران قومی سلامتی کے مشیر اور امریکی وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ انھیں 1973 میں ان کی ویت نام جنگ خاتمے کے لیے کی جانے والی کوشش کے اعتراف میں امن کے نوبیل انعام سے بھی نوازا جا چکا ہے۔