.

اسرائیل ہماری فراہم کردہ معلومات پر شام میں حملے کر رہا ہے: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں ہماری فراہم کردہ معلومات پر اسرائیل ایرانی ملیشیائوں کے ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے۔

امریکی عہدیدار نے یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں کیا ہے کہ گذشتہ روز اسرائیل نے مشرقی شام میں ایک بڑا حملہ کیا ہے۔ سنہ 2018ء کے بعد اسے سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی عہدیدار خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹیڈ پریس' کو بتایا کہ اسرائیلی بمباری سے ایران کے جوہری پروگرام کے اجزاء پر مشتمل گوداموں کو نشانہ بنایا رہا ہے۔

مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق بدھ کے روز دیر الزور میں ہونے والا حملہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

تازہ حملوں میں کم از کم 40 ایران نواز عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔ یہ تعداد گذشتہ دو سال کے دوران کسی بھی اسرائیلی حملے میں ہونے والی اموات میں سب سے زیادہ ہے۔ شامی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی شدید بمباری نے البو کمال عراق اور شام کی سرحد پر پھیلنے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

بم دھماکے نے دیر الزور کے نواح میں واقع گوداموں، البوکمال میں ایک کیمپ، صحرا میں واقع اسلحہ ڈپو، لبنانی حزب اللہ کے جنگجوئوں ، ایرانی افواج اور ان کے ساتھ وفادار گروپوں سے وابستہ دوسرے افراد کو بھی کو نشانہ بنایا گیا۔

آبزرویٹری کے مطابق تینوں علاقوں پر بمباری سے ایران کے وفادار 24 غیر شام جنگجوؤں کے علاوہ شامی فوج 9 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔ بمباری میں 37 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں ہے۔