.

امریکی محکمہ خزانہ کی ایران کی تین شخصیات اوردو بڑے اداروں پرنئی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیرملکی اثاثہ کنٹرول نے بدھ کے روز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے براہِ راست کنٹرول میں تین شخصیات ،دو اداروں اور ذیلی تنظیموں پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔

محکمہ خزانہ نے ایرانی رہبرِاعلیٰ کے زیرنگرانی تعمیل امام خمینی آرڈر(ایکو) اورآستان قدس رضوی (اے کیو آر) پر پابندیاں عاید کی ہیں۔اس سے پہلے محکمہ خزانہ نے رہبرِاعلیٰ کے کنٹرول میں ایک اور ادارے بنیاد مستضفان اور سپاہِ پاسداران انقلاب کے ملکیتی ادارے خاتم الانبیاء پرپابندیاں عاید کی ہیں۔ان تینوں اداروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایران کی نصف معیشت ان کے کنٹرول میں ہے۔

امریکی وزیرخزانہ اسٹیون ٹی نوشین نے کہا ہے کہ ’’ان اداروں کی بدولت ایران کی اشرافیہ کو ایک بدعنوان نظام کو برقرار رکھنے اور ایران کی معیشت کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول میں مدد مل رہی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’امریکا ان لوگوں (ایرانیوں) کو ہدف بنانے کاسلسلہ جاری رکھے گا، جنھوں نے خود کو توامیرِکبیر بنا لیا ہے لیکن دعویٰ یہ کررہے ہیں کہ وہ ایرانی عوام کے مددگار ہیں۔‘‘

محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان افراد اور اداروں پرایگزیکٹو آرڈر13876 کے تحت قدغنیں لگائی گئی ہیں۔اس کے تحت ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے دفتر کو ہدف بنایا گیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نومبر2020ء میں بنیاد مستضفان پرپابندیاں عاید کی تھیں۔یہ کئی ذیلی اداروں پر مشتمل ہے اور اس کا ایران کی معیشت پر کنٹرول ہے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ ایکو اور اے کیو آر کے ساتھ بنیاد کے ذریعے ایران کی بدعنوان قیادت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ان کے اثاثے ایرانی رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کا دفتر استعمال کررہا ہے۔وہ ان کے اثاثوں کو اپنے سیاسی اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کررہے ہیں اور ان کے ذریعے دشمنوں کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔