.

عُمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے فرزندِ اکبرذی يزن ولی عہد مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی سلطنت عُمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے اپنے بڑے بیٹے ذی یزن کو اپنا ولی عہد مقررکیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ عُمان میں کسی سلطان نے اپنا جانشین ولی عہد مقرر کیا ہے۔

سلطان ہیثم بن طارق آل سعید نے سوموار کو نئے ولی عہد کے تقرر اور پارلیمان کے کام سے متعلق نئے بنیادی قانون کا اعلان کیا تھا۔اس کی تفصیل منگل کے روز سرکاری گزٹ میں شائع کی گئی تھی۔

اس نئے قانون میں ولی عہد کے تقرر اور اس کے فرائض منصبی کا میکانزم وضع کیا گیا ہے۔اس میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کو عُمان میں نظم ونسق کی اساس قرار دیا گیا ہے۔نیزشہریوں کو مزید آزادیاں اور حقوق کی ضمانت دینے میں ریاست کے کردار پر زوردیا گیا ہے۔

عُمان کی وزارتِ اطلاعات کے ایک بیان کے مطابق آئین کی دفعہ پانچ کے تحت سلطان ترکی بن سعید بن سلطان کے مرد وارثوں کو نظام حکومت ورثے میں منتقل ہوگا اور اس کی ترتیب کچھ یوں گی:

  1. سلطان سے اقتدار ان کے بڑے بیٹے کو منتقل ہوگا اور پھرآگے ان کے بڑے بیٹے کو منتقل ہوگا۔اس طرح نسل در نسل اقتدارایک سے دوسرے فرزنداکبر کو منتقل ہو گا۔
  2. اگرسلطان کا بڑا بیٹا (ولی عہد) اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی وفات پا جائے تو اقتدار متوفیٰ کے بڑے بیٹے کو منتقل ہونا چاہیے۔اگر متوفیٰ کے بھائی ہوں تب بھی اس کا بڑا بیٹا سلطان کا منصب سنبھالے گا۔
  3. اقتدار کی منتقلی کے لیے قانون میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ اگر ولی عہد کا کوئی بیٹا نہ ہو تو پھر اقتدار خود بخود اس کے بڑے بھائی کو منتقل ہوگا اور اگر اس کا کوئی بھائی زندہ نہ ہو تو پھر اقتدار اس کے بڑے بھائی کے بڑے بیٹے کو منتقل ہوگا۔اگرجانشین کے بڑے بھائی کا کوئی بیٹا نہ ہو تو پھر اقتدار اس کے دوسرے بھائیوں میں سے سب سے بڑے کے بڑے بیٹے کو منتقل ہوگا۔

س لطان ہیثم بن طارق نے ایک سال قبل ہی مرحوم سلطان قابوس بن سعید کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔مرحوم سلطان قابوس کے کوئی اولاد نہیں تھی۔انھوں نے اپنے 49 سالہ دورِ اقتدار میں کسی کو علانیہ اپنا جانشین نامزد نہیں کیا تھا۔انھوں نے ایک سربہ مہر لفافے میں اپنے کزن ہیثم بن طارق کو اپنا ترجیحی جانشین نامزدکیا تھا۔یہ خط ان کی وفات کے بعد کھولا گیا تھا اور ان کے خاندان نے ان کے انتخاب کا احترام کیا تھا۔

نئے بنیادی قانون کے تحت عُمان کی ایک منتخب شوریٰ کونسل ہوگی۔اس کا کردار مشاورتی ہوگا اور یہ پارلیمان کا ایوانِ زیریں ہوگی۔