.

یرغمال بحری جہاز کے بدلے ایران کا جنوبی کوریا سے منجمد رقوم واگزار کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے چند روز قبل یرغمال بنائے گئے جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کے بدلے میں سیول حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کیا ہے۔ ایک جنوبی کوریائی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران نے گذشتہ ہفتے یرغمال بنائے ایک بحری جہاز کو چھوڑنے کے بدے میں جنوبی کوریا سے منجمد رقوم کو واگزار کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی 'یونھاپ' کے مطابق ایک طرف ایران یرغمال آئل ٹینکر کے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے پر زور دے رہا ہے اور دوسری طرف اس نے پکڑے گئے جہاز کے بدلے میں مجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ ایران نے سرکاری طورپر ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے جنوبی کوریائی بحری جہاز کو رقوم کے حصول میں استعمال کررہا ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت کے ایک ذمہ دار نے کہا کہ ان کے ملک اور تہران کے مابین مذاکرات میں پیشرفت کے اشارے بہت کمزور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سیول میں منجمد رقوم کو واگزار کرانے کا مطالبہ کررہا ہے۔ پیر کے روز ایران نے "ہینکوک چیمی" ٹینکر کو یرغمال بنانے کے معاملے پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ایران نے امریکا اور فرانس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت نہ کریں۔ فرانس اور امریکا نے ایران سے یرغمال آئل ٹینکر کو فوری طور پر چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ چار جنوری کو ایرانی سپاہ پاسدارانقلاب نے جنوبی کوریا کا ایک تیل بردار بحری جہاز یہ کہہ کر قبضے میں لے لیا تھا کہ یہ جہاز سمندر میں آلودگی پھیلا رہا تھا۔ ایران نے جہاز پر سوار عملے کے تمام افراد کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ جنوبی کوریا نے ایران سے جہاز کو چھوڑنے اور زیرحراست جہاز کے عملے کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اتوار کے روز ایران کی نائب وزیر خارجہ چوئی جونگ کون دورے پر تہران پہنچی تھیں۔ ۔ تہران کی سیئول سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ایرانی اثاثوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے۔

قابل ذکر ہے کہ ٹینکر کو یرغمال بنانے کے کچھ دن بعد ایران نے جنوبی کوریا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سات ارب ڈالر "ضبط" کر رکھے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے جنوبی کوریا نے ایران کی سات ارب ڈالر کی رقم دبا رکھی ہے۔

دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منجمد اثاثوں کے معاملے کو موجودہ وقت میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں "سب سے بڑی رکاوٹ" قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق جنوبی کوریا کو ایران کے منجمد اثاثے جلد از جلد واگزار کرنا ہوں گے۔