.

آبنائے ہرمز کو ایران سے محفوظ رکھنے کے لیے بین الاقوامی کمیٹی بنائی: پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو ایران سے بچانے پر سعودی عرب ، بحرین، امارات اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔

بدھ کے روز اپنی ٹویٹس میں انہوں نے کہا کہ "ہم نے آبنائے ہرمز کو ایران کی خلاف ورزیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دی"۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 7 جنوری کو امریکی فوج نے دو B-52 بم بار طیارے مشرق وسطی منتقل کیے تھے۔ امریکی نیوز چینل CNN کے مطابق دونوں طیارے امریکا میں فوجی اڈوں سے بھیجے گئے۔

یہ اقدام اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ امریکی جوابی کارروائی کی مہم کے حوالے سے کوئی غفلت نہیں برتی جا رہی ہے۔

امریکی بم بار طیاروں کا مشن بنا کسی وقفے کے 36 گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران طیاروں نے شمالی امریکا میں ریاست ڈکوٹا کے مینوٹ ایئر بیس سے اڑان بھری۔ وہ خلیج عربی تک گئے اور پھر وہاں سے واپس آئے۔ یہ ایران کے لیے ایک واضح پیغام تھا جس کے دوران مختصر وقت میں لڑائی کے لیے فورس تعینات کرنے کی قدرت کا مظاہرہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں امریکی دفاعی ذمے داران کا کہنا ہے کہ "اس بات کے اشارے ابھی تک موصول ہو رہے ہیں کہ عراق میں ممکنہ حملوں کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ ان لوگوں کی جانب سے خطے میں کسی بھی حملے کتنا امکان ہے اور یہ حملہ کب ہو سکتا ہے"۔

یاد رہے کہ واشنگٹن نے مشرق وسطی میں اپنے عسکری وجود کو مضبوط بنایا ہے۔ اس سلسلے میں خطے میں جوہری صلاحیت کے حاملB-52 بم باری طیارے بھیجے گئے۔ ساتھ ہی خلیج عربی سے جوہری آبدوز گزارے جانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ علاوہ ازیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں امریکی طیارہ بردار جہاز "يو ایس ایس نیمٹز" کے قیام کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا۔