.

بائیڈن پر دباؤ کے لیے اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فوجی منصوبہ بنا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ایک عبرانی زبان کے اخبار Israel Hayom نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف تین عسکری متبادل آپشنز تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیت المقدس میں العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق اس معلومات کے اِفشا ہونے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہاتھ میں منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے "پریشر کارڈ" آ سکتا ہے۔ بائیڈن کی انتظامیہ کے ذمے داران یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس آئیں گے۔

اسرائیل میں موصول معلومات کے مطابق ایران تین ٹن کم افزودہ یورینیم حاصل کر چکا ہے اور وہ ایک سال کے دوران جوہری بم چلا سکتا ہے۔

اسی سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایرانی معاملے کے علاج اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ رابطوں کے واسطے خصوصی ایلچی کے تقرر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ موساد کے سربراہ یوسی کوہین اس ذمے داری کو سنبھالنے کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں۔ کوہین کی موساد کے سربراہ کے طور پر ذمے داری رواں سال جولائی میں اختتام پذیر ہو رہی ہے۔

مذکورہ اسرائیلی اخبار نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج ایک نئے عملی منصوبے پر کام کر ہی ہے جس کا مقصد مشرق وسطی میں خطرات سے نمٹنا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت سیکورٹی امور کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس اضافے کا اندازہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے۔

اسرائیل کے سیکورٹی وزیر بینی گیٹز کا اسی اخبار میں ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے۔ ایران کے جوہری منصوبے کے حوالے سے لکھے گئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ "ایران حالیہ چند برسوں میں تحقیق، ترقی، افزودہ مواد کے حصول اور حملے کی صلاحیتوں میں پیش رفت کو یقینی بنا رہا ہے۔ ان تمام امور کو ایسا نظام چلا رہا ہے جو درحقیقت جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بینی گیٹز کا مزید کہنا تھا کہ "یہ بات واضح ہے کہ اسرائیل کو عسکری آپشن رکھنا ہو گا اور یہ بات وسائل اور سرمایہ کاری کا تقاضا کرتی ہے"۔