.

قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں ،امریکی صدر بھی جوابدہ ہے: پلوسی

امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد دوسری مرتبہ منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی قرارداد دوسری مرتبہ منظور کرلی گئی، 232 ارکان نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں صدرٹرمپ کے مواخذے کے حق میں قرارداد منظور کر لی گئی، جس میں ایوان نمائندگان کی اکثریت نے صدرٹرمپ کے فوری مواخذے کے حق میں ووٹ دیئے۔

435 رکنی ایوان میں 232 ارکان نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیئے جبکہ مواخذے کی مخالفت صرف197 ارکان کانگریس نے کی، ایوان کی منظوری کے بعد اب مواخذے کی قرارداد سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔

اسپیکر ایوان نمائندگان نینسی پلوسی نے مواخذے کی قرارداد پر دستخط کئے اور کہا ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اوراسے نبھائیں گے، قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں ،امریکی صدر بھی جوابدہ ہے۔

ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی قرارداد دوسری مرتبہ منظور کی، اس سے قبل سینیٹ میں پچھلی مرتبہ ٹرمپ کیخلاف مواخذے کی قراردادمسترد کردی گئی تھی۔

خیال رہے کانگریس نے ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی کا آغاز کیا تھا، قرار داد میں کہا گیا تھا کہ نائب صدر پنس 25 ویں آئینی ترمیم کے آرٹیکل 4 کے تحت ٹرمپ کو عہدے سے ہٹائیں اور خود قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالیں، قرارداد میں کہا گیا تھا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت امریکی نائب صدر قائم مقام صدر بن سکتے ہیں۔

ایوان نے مائیک پنس سے 25 ویں ترمیم کے تحت ٹرمپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، مائیک پنس نے اسپیکر کانگریس نینسی پلوسی کو خط لکھا، جس میں کہا گیا تھا کہ سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنوں گا لیکن وعدہ کرتا ہوں کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل نیک نیتی سے سرانجام دیں گے۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کی صدارت ختم ہونے میں 6 دن رہ گئے ہیں اور جس کے بعد 20 جنوری کو جو بائیڈن امریکا کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔