.

ایران کے بحرِہند میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے دو روزہ فوجی مشقوں کے دوران میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے ہیں۔ان میزائلوں نے بحرہند میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ سپاہ نیوز پر ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’مختلف اقسام کے میزائلوں نے دشمن کے جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں 1800 کلومیٹر کے فاصلے سے داغے جانے کے بعد تباہ کردیا ہے۔‘‘

خبر کے مطابق ان میزائلوں کو وسطی ایران سے داغا گیا تھا اور انھوں نے شمالی بحرہند میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔اس میں دو میزائلوں کو داغا جارہا ہے اور وہ سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

فوجی مشقوں کے دوسرے روز ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجرجنرل محمد باقری ، سپاہِ پاسداران انقلاب کے سربراہ میجرجنرل حسین سلامی اور فضائیہ کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل امیرعلی حاجی زادہ بھی موجود تھے۔

سپاہ نیوز نے میجر جنرل محمد باقری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’سمندری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر دشمن نے ہمارے قومی مفادات ،بحری تجارتی راستوں یا علاقے کے بارے میں کسی ناپاک ارادے کا اظہار کیا تو انھیں ہمارے میزائلوں سے ہدف بنایا جائے گا اور تباہ کردیا جائے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم کوئی حملہ نہیں کرنا چاہتے ہیں لیکن فوجی مشقیں کسی بھی جارح کے خلاف ہماری دفاعی تیاریوں کی غماز ہیں۔‘‘

ان مشقوں کو ’پیغمبرعظیم15‘ کا نام دیا گیا تھا۔ان میں ایک میزائل دفاعی نظام پر ڈرون حملہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے بعد زمین سے زمین پر مار کرنے والے نئی نسل کے بہت سے بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔

ایران کی گذشتہ دو ہفتے سے بھی کم وقت میں یہ تیسری فوجی مشقیں ہیں۔ایران نے گذشتہ بدھ اور جمعرات کو خلیج عُمان میں بحری فوجی مشقیں کی تھیں اور اس سے پہلے پانچ اور چھے جنوری کو ایرانی آرمی نے ڈرون کی مشق کی تھی۔یہ مشقیں ایسے وقت میں کی گئی ہیں، جب ایران کی امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے۔

ایران نے پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول کمانڈر میجرجنرل قاسم سلیمانی کی پہلی برسی کے دو روز بعد یہ فوجی مشقیں شروع کی تھی۔قاسم سلیمانی گذشتہ سال تین جنوری کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ایران کی اعلیٰ قیادت نے حالیہ دنوں میں ان کا انتقام لینے کے لیے تندوتیز بیانات جاری کیے ہیں اور یہ دھمکی دی ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ چکانے کے لیے امریکا میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔