.

بحرین کو فائزر کی ویکسین کی جنوری میں ملنے والی کھیپ تاخیرکا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین میں امریکا کی دواساز فرم فائزر کی جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے اشتراک سے تیارکردہ ویکسین کی جنوری میں ملنے والی کھیپ کی آمد تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔البتہ بحرین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ویکسین کی دوسری کھیپوں کی آمد کا شیڈول متاثر نہیں ہوگا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک تحقیقی پروگرام کے مطابق بحرین میں فی کس شرح فی صد کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے نمبر پر کووِڈ-19 کی ویکسین لگائی جارہی ہے۔وہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے بعد ویکسین لگوانے والے شہریوں کی تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے۔

بحرین کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ویکسین کی آمد میں تاخیر سے آیندہ دنوں میں دوسرا ٹیکا لگوانے والے شہریوں اور مکینوں کے شیڈول پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ان کے لیے مطلوبہ تعداد میں ویکسینیں دستیاب ہیں۔

بحرین میں فائزر یا چین کی سرکاری دوا ساز فرم سائنو فارم کی تیار کردہ ویکسین شہریوں اور مکینوں کو مفت لگائی جارہی ہے۔

دوسری خلیجی ریاستوں سعودی عرب ،قطر ، عُمان اور امارت دبئی نے بھی اپنے ہاں استعمال کے لیے فائزر کی ویکسین خرید کی ہے۔

فائزر نے اسی ہفتے کہا تھا کہ اس نے پیداوار کو بڑھانے کے لیے ویکسین کی تیاری کے عمل میں بعض تبدیلیاں کی ہیں جس کی وجہ سے جنوری کے آخر اور فروری کے اوائل میں بھیجی جانے والی ویکسین کی کھیپیں متاثر ہوں گی۔

واضح رہے کہ بحرین نے گذشتہ ماہ چین کی ساختہ کووِڈ-19 کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی۔اس سے پہلے بحرین نے امریکی دواساز کمپنی فائزر کی جرمن کمپنی بائیواین ٹیک کے اشتراک سے تیارکردہ ویکسین کی آزمائشی جانچ کے بعد ہنگامی استعمال کے لیے منظوری دی تھی۔