.

برطانیہ ،جرمنی اور فرانس کا ایران کو یورینیم کے دھاتی ایندھن پرکام پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تین یورپی طاقتوں نے ایران کو خبردارکیا ہے کہ وہ اپنے ایک ریسرچ ری ایکٹر میں یورینیم دھات پر مبنی ایندھن کی تیاری کا کام شروع نہ کرے۔برطانیہ ،جرمنی اور فرانس کا کہنا ہے کہ اگر ایران ایسا کرتا ہے کہ تو یہ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوگی کیونکہ اس کا کوئی فوجی استعمال نہیں اور اس کے سنگین فوجی مضمرات ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای ای) نے گذشتہ بدھ کو کہا تھا کہ ایران نے یورینیم کے دھاتی ایندھن پر کام شروع کردیا ہے۔قبل ازیں ایران نے اس کی تصدیق کی تھی۔ یہ اس کی جانب سے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی نئی خلاف ورزی تھی جبکہ وہ امریکا کی پابندیوں کے خاتمے کے لیے بھی زور دے رہا ہے۔

برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے:’’ہم ایران کی پُرزورانداز میں حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس سرگرمی کو ختم کردے اور اگروہ مشترکہ جامع لائحہ عمل ( جوہری سمجھوتے) کو برقرار رکھنے میں سنجیدہ ہے تو وہ اس کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کوبلاتاخیر پورا کرے۔‘‘

ایران نے گذشتہ دوماہ سے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ایرانی پارلیمان نے نومبر میں اپنے سرکردہ جوہری سائنس دان کی ہلاکت کے ردعمل میں ایک قانون منظور کیا تھا۔اس کو جواز بنا کر ایران نے جوہری سمجھوتے کی شقوں کے منافی اقدامات کررہا ہے۔

ایران نےمئی 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پرانخلا کے ردِّعمل میں 2019ء میں اقدامات شروع کردیے تھے اور یورینیم کی اعلیٰ سطح پرافزودگی شروع کردی تھی۔امریکی صدر نے جوہری سمجھوتے کو خیرباد کہنے کے بعد ایران کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

مذکورہ تینوں یورپی طاقتیں چین اور روس کے ساتھ مل کر جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے ایران کی نئی جوہری سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی یورینیم دھات کی پیداوار کا شہری مقاصد کے لیے کوئی استعمال نہیں ہے اور اس کے ممکنہ طور پرسنگین فوجی مضمرات ہیں۔

واضح رہے کہ ایران جوہری سمجھوتے کے تحت 15 سال تک یورینیم میٹل پیدا یا حاصل نہیں کرسکتا ہے۔اس حساس مواد کو ایک جوہری بم میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیوں سے امریکا کے منتخب صدر جوزف بائیڈن پر دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔وہ آیندہ ہفتے صدارتی منصب سنبھال رہے ہیں۔وہ انتخابی مہم کے دوران میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری سمجھوتے کی تمام شرائط کی پاسداری کرے تو امریکا دوبارہ اس میں شامل ہوجائے گا جبکہ ایران امریکا سے تمام پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے۔