.

عراق اور افغانستان میں‌ امریکی فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 2500 پر آگئی: وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قائم مقام امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق عراق اور افغانستان دونوں ملکوں میں امریکی افواج کی تعداد کم ہو کر اب 2500 رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ "لامتناہی جنگوں" کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ملر نے کہا کہ آج عراق میں قریب قریب قریب 20 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے قریب ہے۔ عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں کمی عراقی فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک عراق اور افغانستان میں امن کے حصول میں اہم پیش رفت، امریکیوں اور ان کےاتحادیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے بعد وہاں تعینات افواج کی تعداد کو کم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ملر نے کہا کہ عراق میں امریکی فوج کی تعداد میں کمی عراقی سیکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ فوج کی تعداد کم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'داعش' کی مسلسل شکست کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ اور " بین الاقوامی اتحاد" عراق میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراق میں انسداد دہشت گردی کے پلیٹ فارم کو برقرار رکھیں گے۔