.

کیا ایران نے سعودی عرب پر حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرونز کی نمائش کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ان دنوں اپنے جدید ترین بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں کی مشقیں اور ان کی نمائش شروع کی ہے۔ ایران نے سنہ 2019ء میں سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی کی تنصیبات پر مبینہ ڈرون حملے میں‌ ملوث ہونے کی تردید کی تھی مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودیہ میں 'آرامکو' کی تنصیبات پرحملوں کے لیے جن ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا۔ انہی ڈرونز سے ملتے جلتے ڈرونز کی نمائش ایران میں جاری ہے۔ ایران نے سعودی عرب میں‌ آرامکو کی تیل تنصیبات پرحملوں میں ملوث ہونے کی بار بار تردید کی ہے مگر سعودی عرب اور عرب اتحاد کی طرف سے کی گئی تحقیقات میں ان حملوں میں ایران ہی کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔
ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے آخری دنوں میں امریکا کے ساتھ تناؤ بڑھتا جارہا ہے ایرانی پاسداران انقلاب کے فوجی دستوں کی رفتار تیز تر ہوتی جارہی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر ڈرون طیاروں کی نمائش اور مشقوں کی ویڈیو کلپس نشر کیے گئے۔ ان مشقوں میں دشمن کے مراکز اور اہداف اور فاصلوں کے مطابق ان ڈرونز کا تجربہ کیا گیا۔


خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ستمبر سنہ 2019ء کو سعودی عرب کی بقیق اور حریص میں واقع تیل کی تنصیبات پر 'ڈیلٹا' نامی بمبار ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔ اسی ڈرون سے ملتے جلتے دو پروں والے ڈرونز کی ایران میں نمائیش کی گئی۔
اگرچہ ڈیڑھ سال قبل سعودی عرب پرحملوں کی ذمہ داری حوثی ملیشیا نے قبول کی تھی۔ حوثی ملیشیا کے دعوے نے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے شبہات کو مزید تقویت دی تھی۔


ایران کی سپاہ نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق دو ہفتوں سے کم وقت میں ایران نے تین دفاعی مشقیں کی ہیں۔ ان میں سے ایک مشق میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے جدید طرز کے بیلسٹک میزائل کا بھی تجربہ کیا گیا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے وسطی صحرا میں ہونے والی مشقوں میں جدید ترین وارڈ ہیڈز سے لیس میزائلوں‌ کے تجربات کیے گئے۔