.

'سعودی عرب میں جلد خواتین ججوں کا تقرر کیا جائے گا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی انڈر سیکریٹری برائے افرادی قوت وسماجی بہبود ھند الزاہد نے کہا ہے کہ وزارت انصاف میں جج کے عہدوں پر خواتین کی تقرری جلد ہوگی۔ وہ سعودی خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے جاری سرکاری مہم پر اظہار خیال کر رہی تھیں۔

العربیہ چینل کے خصوصی پروگرام ’سوال مباشر‘ [براہ راست سوال] میں ھند کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق جج کی تقرری کی کارروائی کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ جج بننے کے لیے مطلوبہ ڈگری حاصل کرنا پڑتی ہے۔ اس کے بغیر بات نہیں بنتی تاہم میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہی ہوں کہ جج کے عہدے پر خواتین کی تقرری کا فیصلہ جلد ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں ھند الزاہد نے بتایا کہ وزارت انصاف میں 2000 سے زائد خواتین کام کر رہی ہیں۔ ان میں وثیقہ نویس شامل ہیں۔ جلد ہی جج کے عہدے پر خواتین کا تقرر بھی ممکن ہوسکے گا۔

انڈر سیکریٹری افرادی قوت نے کہا کہ سعودی خواتین کی مختلف شعبہ زندگی میں ملازمتوں کی تلاش تمام توقعات سے بڑھ گئی ہے اور سال 2025 تک سعودی خواتین 25 فی صد ملازمتوں کی حامل ہوںگی۔

ھند کے مطابق سول سروسز کے سیکٹرز میں خواتین کی شمولیت 39 فی صد سے بڑھ کر 41 فی صد ہو گئی ہے جن میں اکثریت شعبہ صحت اور تعلیم میں شامل کی گئی ہیں۔