.

روسی بحریہ کا سابق افسر جنگی جہاز کے "دھکیلو پنکھوں" کی چوری میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی بحریہ کے ایک سابق افسر کو تحقیقات کا سامنا ہے۔ مذکورہ افسر پر الزام ہے کہ اس نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر بحریہ کے ایک فوجی جنگی جہاز کے دو بڑے Propellers یعنی "دھکیلو پنکھے" چرا لیے۔ واقعے کے وقت یہ افسر مذکورہ جہاز "بیسپوکوئنی" کے کپتان کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔

امریکی جریدے Popular Mechanics کے مطابق کپتان کا نام نہیں بتایا گیا ہے۔ کپتان پر الزام ہے کہ اس نے تانبے سے بنے دو بہت بڑے پروپیلرز کی منظم طور پر چوری کے لیے جہاز پر موجود آرکسٹرا کو مدد پیش کی۔ ان میں سے ہر ایک پروپیلر کا وزن 13 ٹن تھا۔ مزید برآں اصلی پروپیلرز کو گھٹیا معیار کی کم قیمت کاپی سے تبدیل کر دیا گیا۔

روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق چوری کے اس جرم کا ارتکاب کیلنگراڈ شہر میں کیا گیا۔ یہاں بیسپوکوئنی جہاز میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ سال 2018ء سے یہ جہاز ایک تیرتے ہوئے میوزیم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

چوری کی اس واردات کے انکشاف کے بعد عسکری تحقیقات کے شعبے کے سربراہ جج کے زیر قیادت تحقیقات کا آغاز ہو گیا۔ جج نے اس کیس کو "غیر معمولی" قرار دیا جہاں سابق کپتان نے مجرمانہ کارروائی میں عسکری اور شہری افراد کی معاونت حاصل کی۔ جج کے اندازے کے مطابق چوری کی جانے والی اشیاء کی مالیت 3.9 کروڑ روسی روبیل (5.22 لاکھ امریکی ڈالر) ہے۔ چوری کے مرتکب مجرموں نے جہاز سے غائب ہونے والے ساز و سامان کی مکمل جعلی کاپی تیار کی تھی۔

یاد رہے کہ مذکورہ بحری جنگی جہاز (ڈسٹرائر) " بیسپوکوئنی" کو 1993ء میں بنایا گیا تھا۔ سال 2018ء میں خارج از خدمت ہونے کے بعد اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ دوران خدمت یہ روسی بحریہ کا ایک سب سے بڑا اور سب سے زیادہ صلاحیت کا حامل عسکری آلہ تھا۔