.

ہندو انتہا پسندوں نے ایک مرتبہ پھر سیف علی خان کو نشانے پر لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بالی ووڈ اداکار سیف علی خان ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آ گئے ہیں بی جے پی لیڈر رام کدم نے اداکار اور ان کی ٹیم سے گھٹنے ٹیک کر اور ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیف علی خان ان دنوں ویب سیریز ’’تانڈو‘‘ میں کام کرنے کے باعث ایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آگئے ہیں۔ دراصل سیف علی خان کی نئی ویب سیریز ’’تانڈو‘‘ میں دکھائے گئے ایک سین میں ویب سیریز کے اداکار محمد ذیشان ایوب ایک اسٹیج پرفارمنس کے دوران ہندو دیوتا شیوا کا روپ دھارے کچھ نازیبا الفاظ بول دیتے ہیں۔ اور ان الفاظ کے باعث ہندو طیش میں آگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سین کی وجہ سے ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ویب سیریز ’’تانڈو‘‘میں دکھائے گئے اس سین کے باعث بھارت میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔ بی جے پی لیڈر رام کدم نے سیف علی خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اداکار ایک بار پھر ایک ایسے پراجیکٹ کا حصہ ہیں جس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

رام کدم نے اپنے ہی ہدایت کاروں اور اداکاروں کی فلموں اور ویب سیریز پر بھڑکتے ہوئے کہا کہ کیوں ہماری فلموں اور ویب سیریز میں ہمارے دیوتاؤں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ انہوں نے ’’تانڈو‘‘ کے ہدایت کار علی عباس ظفر کو بھی جھاڑ پلاتے ہوئے اس سین کو فوراً ہٹانے کا کہا جس میں ان کے دیوتا کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اداکار سیف علی خان گزشتہ ماہ بھی اس وقت ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آگئے تھے جب انہوں نے ہندوؤں کے ایک دیومالائی کردار راون سے متعلق بیان دیاتھا۔ انہوں نے کہا تھا راون ایک منفی کردار ہے لیکن ہم اسے ایسے روپ میں پیش کریں گے جو دیکھنے والوں کے لیے تفریح ہوگا اور اس میں سیتا کے اغوا کی مناسب وجہ بھی پیش کی جائے گی۔ سیف علی خان اپنی فلم ’’آدی پُرش‘‘ میں راون کا کردار نبھارہے ہیں۔ تاہم انہیں یہ بیان دینے پر معذرت کرنی پڑگئی تھی۔