.

ایران:حال ہی میں فرارکی کوشش میں گرفتار کاروباری شخص امریکی شہری نکلا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے حال ہی میں ایک امریکی شہری کاروباری شخص کو ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران میں گرفتار کرلیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے سوموار کو 56 سالہ عماد شرقی کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی وائی جے سی نے جمعرات کو یہ اطلاع دی تھی کہ انھیں ملک کی مغربی سرحدوں سے غیرقانونی طور پر فرار کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ انھیں کب اور کہاں سے پکڑا گیا تھا۔

اس خبر ایجنسی نے عماد شرقی کی بظاہر ایک ہوائی اڈے سے گرفتاری کے وقت کی تصویر بھی جاری کی تھی اور یہ کہا تھا کہ شرقی کو جاسوسی اور فوجی معلومات جمع کرنے کے جُرم میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا اور وہ اپیل عدالت میں سماعت سے قبل فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

ایرانی میڈیا نے شرقی کی گرفتاری کی خبر میں یہ نہیں بتایاتھاکہ وہ امریکی شہری ہیں۔این بی سی نے ان کے ایک خاندانی دوست کے حوالے سے ان کی امریکی شہریت کی اطلاع دی ہے۔

اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عماد شرقی کو 30 نومبر کو تہران میں ایک عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔وہاں انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ انھیں جاسوسی کے جرم میں ماخوذ کیا گیا ہے اور انھیں کسی ٹرائل کے بغیر 10 سال قید کی سزا سنادی گئی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق انھیں 6 دسمبر کو ایرانی حکام نے گرفتار کیا تھا لیکن ان کے خاندان کو چھے ہفتے تک ان کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ان کے خاندان نے این بی سی کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ ’’انھوں نے عماد شرقی کے ذاتی تحفظ کے پیش نظر زبان نہیں کھولی تھی۔‘‘

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شرقی کو دسمبر 2019ء میں تمام الزامات سے برّی کردیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایرانی حکام نے ان کا ایرانی اور امریکی پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا۔

عماد شرقی ایران میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔وہ اور ان کی اہلیہ 2016ء میں ایران لوٹے تھے تاکہ وہ اپنے وطن سے خود کو ہم آہنگ کرسکیں۔وہ اپنی گرفتاری کے وقت ایک سرمایہ کار کمپنی سروا ہولڈنگ میں کام کررہے تھے۔

انھیں پہلی مرتبہ اپریل 2018ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور دسمبر 2018ء تک تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں قید رکھا گیا تھا۔اسی ماہ انھیں اس جیل سے ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔ان سے جیل میں مبیّنہ طور پر متعدد مرتبہ تفتیش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس وقت ایران میں دہُری شہریت کے حامل متعدد افراد اورغیرملکی پابندِ سلاسل ہیں۔ان میں تین ایرانی نژاد امریکی بھی شامل ہیں۔ناقدین ایرانی حکام پر یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ ان غیرملکی شہریوں کو مغربی حکومتوں سے سودے بازی کے لیے گرفتار کرتے ہیں اور پھر انھیں اپنے مطالبات پورے ہونے کی صورت میں رہا کردیتے ہیں۔