.

جنوبی سوڈان میں تصادم پھوٹنے سے 47 افراد ہلاک: قبائلی راہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی جنوبی ریاست میں سوموار کے روز پھوٹنے والے قبائلی تصادم میں کم سے کم 47 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس امر کی تصدیق ایک قبائلی رہنما نے کی ہے۔ ایک ہمسایہ ریاست میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں اس سے قبل 80 سے زیادہ افراد مارے جانے کی اطلاعات تھیں۔

محمد صالح نامی قبائلی راہنما نے بتایا کہ ایک عرب قبیلے سے تعلق رکھنے والی فورس نے سعادون دیہات کے باسی فلاتا قبیلے کے کم سے کم 20 افراد کو ہلاک کیا۔ اس کارروائی میں حملہ آوروں نے گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور اونٹ استعمال کیے۔

غیر عرب قبیلے فلاتا سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما نے مزید بتایا کہ اس حملے میں بہت سے افراد کے جھلسنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں کی تعداد کا فی الحال تعین کیا جا رہا ہے۔

حالیہ تصادم سے قبل سوڈان کے دارفور علاقے میں پرتشدد واقعات میں 83 افراد ہلاک اور 160 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ قبائلی تشدد کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اقو ام متحدہ اپنے تیرہ سالہ قیام امن مشن کو ختم کرنے پر غور کررہا ہے۔

سوڈان میں دارفور علاقے کے ال جینینا شہر میں تشدد کے واقعات کے بعد مرنے والوں کی تعداد 83 ہوگئی ہے جبکہ ڈاکٹروں کی ایک یونین اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تشدد کے اکا دکا واقعات اب بھی جاری ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ملیشیا کے ان حملوں میں تقریباً 160 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں نے سنیچر کے روز علاقے میں کرفیو نافذ کردیا، تمام بازاروں کو بند کرا دیا اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔ خرطوم کی مرکزی حکومت نے خطے میں قانون و انتظام کی صورت حال پر قابو پانے کے لیے اعلی سطحی عہدیداروں کا ایک وفد روانہ کیا ہے۔ تشدد کے حالیہ واقعات نے تصادم سے دوچار دارفور خطے میں استحکام پیدا کرنے کی عبوری حکومت کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

دارفور میں سن 2003 میں بڑے پیمانے پر نسلی تصادم کے واقعات پیش آئے تھے۔ جس کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ افراد ہلاک اور پچیس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوگئے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد سے کشیدگی میں کمی آئی ہے تاہم تشدد کے اکا دکا واقعات اب بھی ہوتے رہتے ہیں۔

خطے میں تشدد کا ایک بنیادی سبب زمین اور آبی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔

علاقے میں امن اور استحکام پیدا کرنے کی امید میں اقتدار میں شرکت کے ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت قائم کی گئی جس میں مقامی باغی گروپوں کو بھی شامل کیا گیا تاہم سب سے مقبول سوڈان لبریشن موومنٹ سمیت دو بڑے گروپوں نے اس عبوری حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔