.

روس کی اسرائیل کو شام میں تعاون کی پیش کش، امریکا سے نہ الجھنے کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں اگر اپنی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ محسوس کرے تو اس کے بارے میں ماسکو کو معلومات فراہم کرے۔ روس شام میں اسرائیل کے لیے خطرہ بننے والے اہداف سے خود نمٹنے کی کوشش کرے گا۔

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لافروف نے سوموار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے اسرائیل کو تجویز دی ہے کہ وہ شام میں اپنے لیے خطرہ بننے والے اہداف کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کرے تاکہ تل ابیب کی طرف سے کسی فوری حملے سے قبل روس خود اس سے نمٹ لے۔

ایک سوال کے جواب میں لافروف نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے شام میں خطرے کا باعث بننے والے اہداف کے بارے میں ہم اسرائیل کو تعاون کی پیش کش کر چکے ہیں۔ ہم نے اپنے اسرائیلی ساتھیوں سے کہا ہے کہ اگر آپ شام میں اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس کریں تو اس کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اسرائیلیوں سے کہا ہے کہ اگرآپ کے پاس خطرے کا کوئی‌ ٹھوس ثبوت ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ شام کی سرزمین سے اسرائیل کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں تو ہمیں بتائیں۔ ہم اس خطرے کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں‌ گے۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہماری س تجویز پر تل ابیب کی طرف سے ماسکو کو کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ نے شام اور لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیل شام اور لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔