نئے امریکی صدر کی سائیکل وائٹ ہاؤس کے لیے سیکیورٹی رسک بن سکتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی پسندیدہ سائیکل ان کے لیے ’سیکیورٹی رسک‘ قرار دی جا رہی ہے۔ اسی لیے بعض سیکیورٹی ماہرین نے مذکورہ سائیکل کو وائٹ ہاؤس کے لیے ’خطرناک‘ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ نئے صدر اسے ساتھ لے اپنی سرکاری رہائش گاہ میں منتقل نہ ہوں۔

بائیڈن کی پسندیدہ سائیکل دراصل ساکن ورزشی مشین ہے جسے امریکی کمپنی ’پیلوٹن‘ نے تیار کیا ہے۔

تاہم دوسری ساکن ورزشی سائیکلوں کے مقابلے میں یہ بہت جدید ہے کیونکہ اس میں ایک عدد ایل سی ڈی اسکرین کے علاوہ ایک ڈیجیٹل کیمرا بھی نصب ہے؛ اور یہ سب کے سب چوبیس گھنٹے انٹرنیٹ سے منسلک رہ سکتے ہیں۔

خطرناک بات یہ ہے کہ اگر اس سائیکل کو ’’آف‘‘ بھی کردیا جائے، تب بھی یہ اپنا انٹرنیٹ کنکشن برقرار رکھتی ہے۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس میں دیگر حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سخت سائبر سیکیورٹی کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے جس میں فائر والز اور مداخلت سے بروقت خبردار کرنے والے سافٹ ویئر وغیرہ شامل ہیں، لیکن سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک اچھا اور ماہر ہیکر ان رکاوٹوں کو بہ آسانی عبور کرسکتا ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ 2008 میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوچکا ہے جب بارک اوباما امریکی صدر منتخب ہوئے تھے اور وائٹ ہاؤس منتقل ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔

ان کی بیوی مشیل اوباما کی ایسی ہی ایک ساکن ورزشی سائیکل میں تبدیلیاں کرکے اس میں سے ہر وہ نظام الگ کرلیا گیا تھا جو اسے انٹرنیٹ سے منسلک کرتا تھا اور سائبر سیکیورٹی کےلیے خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ ایسی ہی تجاویز جو بائیڈن کی ورزشی سائیکل کے ضمن میں سامنے آئی ہیں، اب دیکھتے ہیں نئے امریکی صدر ان پر عمل درآمد کے لیے کس حد تک آمادہ ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں