.

تونس میں جاری پرامن احتجاج تصادم اور تشدد کی شکل اختیار کرگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس میں بے روزگارہ، معاشی ابتری اور سماجی بے راہ روی کے خلاف ہونے والا پرامن احتجاج تشدد کی شکل اختیار کرگیا۔

اطلاعات کے مطابق تونسی پولیس نے دارالحکومت تونسیہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور انہیں منتشر کرنے کےلیے لاٹھی چارج کیا۔ دوسری طرف پولیس کے کارروائی کے جواب میں مظاہرین اہلکاروں پر سنگ باری کی۔\

نامہ نگاروں کے مطابق منگل کے روز مظاہرین کی بڑی تعداد شاہراہ بورقیہ پر جمع ہوئی اور انہوں نے وزارت داخلہ کی طرف مارچ شروع کیا۔ مظاہرین اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور انصاف اور ترقی کےلیے نعرے لگا رہے تھے۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ پولیس اور مظاہرین میں تصادم کے دوران مزید کئی ریلیاں مظاہرین میں شامل ہوگئیں اور مظاہرین اور پولیس میں کئی گھنٹے تک تصادم جاری رہا۔ پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔

مظاہرین نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے، ملک میں سیاسی نظام کی تبدیلی اور مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کے خلاف بھی نعرے بازی کی اور انہیں سفاح ، قاتل اور خون خوار قرار دینے کے ساتھ اخوان کے حامیوں کو جلد قرار دیا۔

تونس کی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز تک حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے والے 632 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے بیشتر کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو سیکیورٹی فورسز پرحملوں، توڑپھوڑ، جلائو گھیرا اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ تونس میں ہونے والے حالیہ مظاہرے سنہ 2011ء کو سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد دس سال میں سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔ تازہ مظاہروں‌نے بن علی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی یاد تازہ کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں