.

امریکا:نینسی پیلوسی کالیپ ٹاپ چُرانے میں مددگار عورت ضمانت پرجیل سے رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک وفاقی جج نے کیپٹول کی عمارت پر حملے کے دوران میں ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کالیپ ٹاپ چُرانے میں مدد دینے والی عورت کو جیل سے ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکا کے میجسٹریٹ جج مارٹن کارلسن نے بائیس سالہ ریلے جون ولیمز کو جیل سے رہائی کے بعد ان کی والدہ تحویل میں دینے کا حکم دیا ہے،ان پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں اور انھیں آیندہ سوموار کو مقدمے کی مزید سماعت کے لیے واشنگٹن میں وفاقی عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ریلے ولیمز ہیرس برگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ان پر کیپٹول کی عمارت میں زبردستی گھسنے ،چوری اور دراندازی کے الزامات ہیں۔جمعرات کو اس کیس کی سماعت کے دوران میں جج کارلسن نے کہا کہ ’’ان جرائم کی سنگینی شدید ہے،انھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘‘ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ رے ولیمز کا ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کا کہنا ہے کہ اس کو ولیمز کے ایک سابق نامعلوم محبّتی نے یہ اطلاع دی تھی کہ یہ عورت 6 جنوری کو بلووں کی ایک ویڈیو میں نمودار ہوئی تھی۔اس شخص نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کی سابقہ محبوبہ روسی انٹیلی جنس کو کمپیوٹر بیچنے کے لیے پُرامید تھی۔

کیپٹول کی عمارت پر اب سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے کی ایک ویڈیو میں ولیمز کی شکل کی ایک عورت نمودار ہوئی تھی اور وہ عمارت میں درانداز افراد کو سیڑھیوں پر چڑھنے کی ترغیب دے رہی تھی۔

ولیمز کی اٹارنی وفاقی وکیل صفائی لوری اُلریچ نے اس کیس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔اب ولیمز پر آیندہ سوموار کو فردِجرم عاید کی جائے گی۔انھیں گرفتاری کے بعد ہیرس برگ کی کاؤنٹی جیل میں بند رکھا گیا تھا۔

ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ نے منگل کے روز کہا تھا کہ ولیمز کی کیپٹول کی عمارت میں داخلے اور پھر نینسی پیلوسی کے دفتر میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر آنے کی ویڈیو کلوز سرکٹ کیمروں میں ریکارڈ ہوئی تھی۔اس ایجنٹ نے اپنے بیان حلفی میں کہا تھا کہ ایک سیل فون سے بھی ویڈیو بنائی گئی تھی اور یہ ممکنہ طور پر ولیمز نے خودبنائی تھی۔اس میں دستانے پہنے ایک مرد پیلوسی کے دفتر کی میز سے ایچ پی کا لیپ ٹاپ اٹھا رہا ہے۔اس کے ساتھ یہ کیپشن لکھی تھی:’’انھوں نے لیپ ٹاپ لے لیا‘‘۔

پیلوسی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ڈریو ہامیل کا کہنا تھا کہ کانفرنس روم سے ایک لیپ ٹاپ اٹھایا گیا تھا۔اس کو صرف پریزینٹیشن کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔اسی ہفتے ایک وفاقی پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا تھا کہ ولیمز کو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک ضمانت پر رہا نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ فرار ہوسکتی ہیں یا انصاف کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔