.

امریکی کانگریس میں 10 سال بعد ڈیموکریٹس کا غلبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے ساتھ ساتھ کانگریس میں بھی ڈیموکریٹس کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے۔
گذشتہ روز امریکا کی دو ریاستوں جارجیا اور کیلیفورنیا سے مزید دو ارکان نے نائب صدر کمالا ہیرس کے سامنے سینٹ کی رکنیت کاحلف اٹھایا جس کے بعد سینٹ میں ڈیموکریٹس کو دس سال کے بعد پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ہے۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ کے ڈیموکریٹک اکثریت کے رہنما چک شمر نے امریکا میں جمہوری اقدار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری عظیم جمہوریت کو گرانے والے فسادیوں کے مقابلے میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں‌نے 6 جنوری کے پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیپیٹل کی عمارت میں صدارتی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے حم حملہ کیا تو یہ جمہوریت اور نو منتخب صدر کی فتح پر حملہ تھا۔


گذشتہ روز سینٹ کے تین ارکان نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کانگریس کی رکنیت کا حلف اٹھایا جس کے بعد دس سال میں پہلی بار ڈیموکریٹس کو کانگریس میں غلبہ حاصل ہوا ہے۔
سینٹ میں صدر جو بائیڈن کے حلف برداری کے کچھ گھنٹوں بعد جارجیا کے ڈیموکریٹس رافیل وارنوک اور کیلیفورنیا کے جان اوسوف نے حلف اٹھایا۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ وارنوک اور اوسوو نے 5 جنوری کو دوبارہ انتخابی مرحلے میں دو حیرت انگیز فتوحات حاصل کیں۔ سینیٹ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس میں 50 ، 50 نشستوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ نائب صدر کملا ہیریس کے انتخاب کے بعد دونوں جماعتوں کے پاس برابر نمائندگی تھی اور صرف ایک ووٹ فیصلہ کن ہوسکتا تھا۔ چنانچہ ڈیموکریٹس کو مزید دو ارکان ملنے سے انہیں سینیٹ میں اکثریت حاصل ہوگئی۔