.

ایردوآن کا احتساب ہونا چاہیے : داؤد اولو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں فیوچر پارٹی کے سربراہ احمد داؤد اولو نے صدر رجب طیب ایردوآن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تنقید چند روز قبل پارٹی میں اولو کے نائب سلجوق اوزداگ پر ہونے والے حملے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ اولے کے نزدیک اس حوالے سے سب سے پہلے ایردوآن کا احتساب ہونا چاہیے۔

گذشتہ روز شام کو اپنے بیان میں اولو نے حملے کے واقعے کا ذمے دار ترک صدر کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ "پانچ روز قبل اوزداگ پر حملے کے بعد سے صدر کا کوئی بیان نہیں آیا ،،، تاہم اگر تین افراد بھی صدر پر تنقید کر دیں تو وہ فورا سامنے آ کر انہیں دہشت گرد قرار دینے کے لیے بیان داغ دیتے ہیں"۔

فیوچر پارٹی کے سربراہ نے مذکورہ حملے کو منظم دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جو کچھ ہوا ایردوآن فوری طور پر اس کا جواز پیش کریں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سلجوق اوزداگ کو انقرہ میں اس وقت بندوقوں اور لاٹھیوں سے حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ فیوچر پارٹی کی پہلی جنرل کانفرنس میں شرکت کے لیے گھر سے نکل رہے تھے۔

اوزداگ کا شمار ترکی کے سیاسی منظر نامے کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ فیوچر پارٹی کے ایک بانی رکن بھی ہیں۔ یہ پارٹی داؤد اولو نے حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سے منحرف ہونے کے بعد بنائی ہے۔