.

سعودی عرب، امریکا اور برطانیہ سمیت کثیر ملکی بحری مشقوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب، امریکا اور برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک کی افواج پر مشتمل 'ڈیفنڈر 21' بحری مشقوں کا آغاز سعودی عرب کے مشرقی علاقے الجبیل میں قائم شاہ عبدالعزیز بحری اڈے میں ہوگیا ہے۔ مشترکہ مشقوں‌ کا آغاز سعودی نیول فوج کے کمانڈر میجر جنرل ماجد بن ہزاع القحطانی کی موجودگی میں ہوا۔ مشقوں میں امریکی بحریہ کے دستوں کے ساتھ ساتھ برطانوی مائن سویپر اور سعودی عرب کی رائل بحری فوج حصہ لے رہی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق کثیر ملکی مشترکہ مشقوں کا مقصد بحری سلامتی کو مستحکم کرنا، علاقائی پانیوں کے تحفظ کو محفوظ بنانا اور جنگی تجربات کا تبادلہ کر کے اتحادی ممالک بالخصوص مشقوں میں شریک ملکوں‌ کے مابین جنگی تیاریوں اور نیول سیکیورٹی کے تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مشقوں کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل عواد بن راشد العنزی نے وضاحت کی کہ "نیول ڈیفنڈر" مشقوں کا مقصد سمندری تحفظ کو فروغ دینا، علاقائی پانیوں، ساحلوں اور بندرگاہوں کی حفاظت کرنا، فوجی تعاون میں اضافہ کرنا ہے اور رائل سعودی بحری افواج اور امریکی اور برطانوی بحری افواج کے مابین جنگی تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔

خلیجی پانیوں میں یہ مشقیں دو ہفتوں تک جاری ہیں گی جن میں شریک ممالک کے بحری جنگی جہاز بھی حصہ لیں گے۔ مشقوں میں میرین کا فضائی آپریشنز اور براہ راست گولہ باری کی تربیت بھی شامل ہے۔