.

کمالاہیرس کے بھارتی ماموں کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے کے بعد امریکا جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی نائب صدر کمالا ہیرس کے بھارتی ماموں کووِڈ-19 کی ویکسین لگوانے کے بعد امریکا جائیں گے اور اپنی بھانجی کو منصب سنبھالنے پر بہ نفس نفیس مبارک باد دیں گے۔

کمالاہیرس نے بدھ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔وہ امریکا کی پہلی سیاہ فام اور جنوب ایشیائی نژاد نائب صدر ہیں۔وہ بھارت سے تعلق رکھنے والی کینسر کی محققہ کی بیٹی ہیں۔ ان کے والد جمائیکا سے تعلق رکھتے تھے۔

ان کے ماموں گوپالان بالاچندرن بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ وہ سینیر دفاعی اسکالر ہیں۔انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ کمالاہیرس نے اپنی تقریر میں اپنی والدہ کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

بالاچندرن نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’کمالا اچھی مقررہ ہیں۔انھوں نے کوئی حیران کن بات نہیں کہی۔انھوں نے اپنی والدہ کا ذکر کیا ہے اور وہ اکثر ان کا تذکرہ کرتی رہتی ہیں۔‘‘

کمالا کے 79 سالہ ماموں اپنی بھانجی کی واشنگٹن میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں شریک ہونا چاہتے تھے لیکن وہ کرونا وائرس کی وجہ سے امریکا نہیں جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’وہ اب محفوظ سفری ماحول کے بعد امریکا جائیں گے اور کمالا ہیرس کے ساتھ مل کر ان کی نائب صدارت کا جشن منائیں گے۔‘‘

یادرہے کہ کمالا ہیرس کے والدین کی کیلی فورنیا میں 1960ء کے عشرے کے اوائل میں پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔وہاں وہ دونوں اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے تھے۔پھر ان کی شادی ہو گئی تھی۔کمالا کے امریکا کی نائب صدارت کا منصب سنبھالنے پر بھارت میں لوگوں نے جشن منایا ہے۔بھارتی میڈیا نے ان کی تاریخی جیت کو بیرون ملک بھارتیوں کی کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔

بھارتی اخبار دکن ہیرالڈ نے ’’نمستے مادام نائب صدر‘‘ کی شہ سرخی جمائی ہے۔ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ ’’کمالا ہیرس نے نسل پرستی اور صنفی امتیاز کو شکست سے دوچار کیا ہے اور ایک تاریخ رقم کی ہے۔‘‘