’’ایٹمی فٹ بال‘‘ ٹرمپ سے بائیڈن کو کیسے منتقل ہوا؟

پینٹاگان نے سسٹم 11 بجکر59 منٹ 59 سیکنڈ پر ناکارہ‘ بائیڈن کیلئے اگلے لمحے فعال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جو بائیڈن نے امریکا کے 46 ویں صدر کا حلف اٹھایا تو دنیا کے سب سے طاقتور شخص کے تمام اختیارات کے ساتھ ہی انہیں 22 کلو وزنی ایک سوٹ کیس بھی دیا گیا جس میں امریکا کے ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے والے خفیہ کوڈ موجود ہیں۔

یہ سوٹ کیس ہر وقت امریکی صدر کے قریب رہتا ہے اور عام طور پر جانے والا صدر آنے والے صدر کو اپنی موجودگی میں یہ سوٹ کیس پیش کرتا ہے مگر چونکہ ٹرمپ بائیڈن کی جیت کو تسلیم نہیں کرتے اور حلف برداری کی تقریب کے وقت وہ واشنگٹن کے بجائے فلوریڈا میں تھے، اس لیے سوٹ کیس کی منتقلی ایک مسئلہ بن گئی۔

تاہم امریکی محکمہ دفاع نے اسی مقصد کی خاطر پہلے سے تیاری کر رکھی تھی اطلاعات کے مطابق ان کے پاس اس قسم کا ایک سوٹ کیس نہیں بلکہ کم از کم تین سوٹ کیس ہیں۔ ایک سوٹ کیس 20 جنوری کی صبح کو ٹرمپ کے ساتھ فلوریڈا گیا، لیکن اس کا الیکٹرانک سسٹم دن کو ٹھیک 11 بج کر 59 منٹ اور 59 سیکنڈ پر ناکارہ ہو گیا عین اسی وقت نئے صدر جو بائیڈن کے فوجی معاون کو اسی قسم کا ایک اور سوٹ کیس پیش کیا گیا جس نے ٹھیک 12 بجے کام شروع کر دیا۔

سیاہ چمڑے کا یہ سوٹ کیس ’ایٹمی فٹ بال‘ کہلاتا ہے اور اس کے اندر المونیم کا مضبوط بکسا ہوتا ہے جس کے اندر ایٹمی ہتھیاروں کے کوڈ درج ہوتے ہیں۔ ان خفیہ کوڈز کی مدد سے امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

یہ سوٹ کیس بم پروف ہوتا ہے اور اس کے اندر ایسا فون ہوتا ہے جس کی مواصلات کو جام نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں امریکی صدر پینٹاگون کے ساتھ رابطے میں رہ سکے ۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ گولف کھیلتے تھے تو اپنے گالف کلبز کے ساتھ ساتھ اس ’فٹ بال‘ کو بھی گالف گاڑی میں ساتھ لیے پھرتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں