.

امریکی وزیر دفاع کا پہلا غیر ملکی رابطہ، نیٹو کے سربراہ سے افغان، عراق امور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں نئی انتظامیہ کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ سے عراق اور افغانستان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ امریکا میں صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنھبالنے کے بعد ان کے وزیر دفاع کا یہ پہلا غیر ملکی رابطہ ہے جس میں انہوں نے دو حساس ممالک کے بارے میں نیٹو کے سربراہ سے بات چیت کی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے آج ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر دفاع اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے جمود کی موجودہ صورت حال، خاص طور پر نیٹو کے لیے مضبوط دفاعی پوزیشن برقرار رکھنے اور افغانستان اور عراق میں مشنوں کے تسلسل کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جُمعہ کی شام اعلان کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نظر ثانی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ دیکھیں‌ گے کہ آیا تحریک طالبان گذشتہ سال طے پانے والے امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق تشدد کو کم کرنے کے لیے پرعزم ہے یا نہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولوان نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ مھیب کے ساتھ فون پر گفتگو کے دوران مذکورہ معاہدے پر نظر ثانی کے امریکی عزم کے بارے میں آگاہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ دوحا میں طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا نے اعلان کیا تھا کہ وہ مئی 2021 تک اپنی تمام افواج کو افغانستان سے واپس بلا لے گا جبکہ طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پر تشدد کارروائیاں روک دیں گے اور افغان حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔

گذشتہ فروری میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں رواں سال مئی تک تمام امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا پر اتفاق کیا گیا تھا۔

کابل اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز گذشتہ ستمبر میں ہوا تھ حالیہ مہینوں میں ملک کے تمام حصوں خصوصا دارالحکومت کابل میں تشدد کے واقعات کے دوران پولیس اہلکاروں ، صحافیوں، سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ان میں سے بعض حملوں‌کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں