.

تُونس:کووِڈ-19 کے کیسوں میں اضافہ؛احتجاجی مظاہروں پر پابندی ،کرفیو میں توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تُونس میں حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ کرفیو میں مزید توسیع کردی ہے اوراحتجاجی مظاہروں پر پابندی عاید کردی ہے۔

حکومت نے سوموار سے ملک کے تمام علاقوں کے درمیان سفری پابندیاں بھی عاید کرنے کا فیصلہ ہے اور 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں ہی میں مقیم رہیں اور گھروں سے باہر نہیں نکلیں۔

تُونس کی وزارتِ صحت کے ترجمان نصاف بن علیا نے کہا ہے کہ کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ نئے قواعد ضوابط کے تحت 14 فروری تک عوامی اجتماعات پر پابندی ہوگی اور تب تک رات 8 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

ملک بھر میں ریستوران اور بار بند رہیں گے اوروہاں صرف کھانا باہر لے جانے کی اجازت ہوگی۔اسکول،جامعات اور دیگر تعلیمی ادارے سوموار سے تدریسی عمل شروع کرسکتے ہیں لیکن بیشتر جماعتیں آن لائن ہوں گی۔

ترجمان نے پابندیوں کی خلاف ورزی کے مرتکبین کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

تُونس میں اب تک کرونا وائرس کے 193000 تشخیص شدہ کیس ریکارڈ کیے گئے ہے۔ان میں سے 6092 مریض وفات پا چکے ہیں۔تُونس کی وزارت صحت نے جمعرات کو کووِڈ-19 کے 103 مریضوں کی وفات کی اطلاع دی تھی۔یہ ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔

واضح رہے کہ تُونس میں کووِڈ-19 سے براعظم افریقا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شہرون میں اسپتال کروناوائرس کے مریضوں سے بھر چکے ہیں اور ان میں مزید مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔

کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایسے وقت میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جب ملک بھر میں غُربت اور بے روزگاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔

دارالحکومت تُونس کے حبیب بورقیبہ ایونیو میں ہفتے کے روز سیکڑوں مظاہرین نے احتجاج کیا ہے۔وہ گذشتہ ہفتے پولیس کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں گرفتار کیے گئے افراد کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ قریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے بیسیوں کو بلووں اور چوری کے الزامات میں جیل کا حکم دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں