.

سعودی وزیرخارجہ جوبائیڈن کی صدارت میں امریکا سے اچھے تعلقات کے بارے میں خوش اُمید

ایرانی نظام اپنی ذہنیت تبدیل کرے اور اپنے شہریوں کی فلاح وبہبود پر توجہ مرکوز کرے:العربیہ سے خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب صدر جوزف بائیڈن کی قیادت میں نئی انتظامیہ میں امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے خوش اُمید ہے۔

یہ بات سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعرات کو العربیہ نیوزچینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم خوش اُمید ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ میں ہمارے امریکا کے ساتھ شاندار تعلقات استوار ہوں گے۔‘‘انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان ہمیشہ شاندار تعلقات استوار رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن نے اب تک جو تقرر کیے ہیں، ان سے ان کے اجتماعی امور کو سمجھنے کی عکاسی ہوتی ہے۔

جوبائیڈن نے بدھ کو امریکا کے چھیالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔انھوں نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دنیا بھر میں امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کرکام کریں گے اور امریکی سفارت کاری کو بحال کریں گے۔

یمن

شہزادہ فیصل نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ یہ ملاحظہ کرے گی کہ یمن میں صورت حال سے متعلق ہمارے مشترکہ مقاصد ہیں۔

البتہ ان کا کہنا ہے کہ اب ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اس بات کا ادراک کرے یمن کے بہترین مفاد میں جنگ کا خاتمہ ہوناچاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر حوثی یہ فیصلہ کرلیں کہ یمن کا مفاد سب سے اہم ہے تو وہ بحران کے حل تک پہنچنے میں سہولت کار کا کردارادا کریں گے۔‘‘شہزادہ فیصل نے امریکا کے حال ہی میں حوثی ملیشیا کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے کو منصفانہ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’الریاض سمجھوتا یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے ایک اساسی بلاک کی حیثیت کا حامل ہے۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب کی ثالثی میں نومبر2019ء میں الریاض سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کا مقصد یمن کی جنوبی عبوری کونسل اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کے زیر قیادت حکومت کے درمیان تنازع کا خاتمہ اور جنوبی یمن میں حکومت کی عمل داری قائم کرنا تھا۔

ایران

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں ، بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اور خطے میں تخریبی سرگرمیوں کے بارے میں مستقبل میں کسی بھی بات چیت میں خلیجی اتحادیوں اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا۔

شہزادہ فیصل نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جولائی 2015ء میں ایران اور چھےعالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتا کم زورتھا کیونکہ تب خطے کے ممالک کے ساتھ کوئی مؤثر رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’سمجھوتے پر دست خط کرنے والے یورپی ممالک کو اب اس حقیقت کا ادراک ہورہا ہے کہ یہ سمجھوتا ''نامکمل'' تھا۔‘‘

سعودی وزیر خارجہ نے انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات پر زوردراصل اس کے اپنے اندرونی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ہم نے ایران کی جانب امن کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا لیکن اس نے اس کا کوئی عزم نہیں کیا ہے۔

شہزادہ فیصل نے انٹرویو میں ایرانی نظام پر زوردیا کہ وہ اپنی ذہنیت کو تبدیل کرے اور اپنے شہریوں کی فلاح وبہبود پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں