متحدہ عرب امارات اسرائیلی شہر تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولے گا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے اسرائیل کے شہر تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیل نے اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کررکھا ہے اور وہ اس متنازع شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے اس شہر میں منتقل کیا تھا۔ چند ایک اور ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں جبکہ بیشتر ممالک تل ابیب ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے وہیں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا ،اس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔یو اے ای نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے کوئی ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔

اس امن معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے،تجارتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ،شہری ہوابازی کے شعبے میں روابط بڑھانے کے لیے مختلف سمجھوتے طے پاچکے ہیں۔

ان میں ایک سمجھوتے کے تحت یواے ای اور اسرائیل نے ہفتے میں 28 پروازیں چلانے سے اتفاق کیا تھا اور دونوں ملکوں نے گذشتہ ماہ دُہرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بھی ابتدائی سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور فروغ تھا۔ایک اور سمجھوتے کے تحت اماراتی شہری اب بغیر ویزا 90 روز کے لیے اسرائیل جاسکتے ہیں۔تاہم اماراتی حکومت نے اسرائیلی شہریوں کے بغیر ویزا ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں