.

کووِڈ-19: فائزرکی ویکسین کی کم یابی؛ دبئی میں ویکسی نیشن مہم عارضی طور پرمؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امارت دبئی کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کی کم یابی کے پیش نظر پہلا ٹیکا لگوانے والوں کے لیے مہم عارضی طور پر مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دبئی کی ہیلتھ اتھارٹی نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ فائزر اور بائیو این ٹیک نے گذشتہ ہفتے اپنی ویکسین کی پیداوار میں توسیع کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے اس کا پیداواری عمل متاثر ہوا ہے۔اس لیے اب ڈی ایچ اے فائزر اور بائیو این ٹیک کی پہلی خوراک لگوانے والوں کے لیے شیڈول کو ازسرنو مرتب کیا جارہا ہے۔

امریکا کی دوا ساز کمپنی فائزر نے گذشتہ ہفتے اپنے بیلجیئن میں واقع پلانٹ میں ویکسین کی پیداوار میں اضافے کے لیے تبدیلیوں کے پیش نظربعض ممالک کو ترسیل میں تاخیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔فائزر کے اس اعلان کے بعد سعودی عرب، اٹلی اور متعدد ممالک میں ویکسی نیشن کی مہم مؤخر کردی گئی ہے۔

تاہم دبئی کی ہیلتھ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ’’فائزر کی دوسری خوراک لگوانے والوں کی تاریخیں متاثرنہیں ہوئی ہیں۔ایسے تمام صارفین جو فائزر اور بائیو این ٹیک کی پہلی ویکسین لگوا چکے ہیں،انھیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ معمول کے مطابق ویکسی نیشن مراکز میں پہنچیں اور دوسری خوراک کا ٹیکا لگوالیں۔‘‘

متحدہ عرب امارات میں سے صرف امارت دبئی میں فائزر کی ویکسین لگائی جارہی ہے۔ باقی امارتوں میں چین کی قومی دواساز فرم سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین شہریوں اور مکینوں کو مفت لگائی جارہی ہے۔دبئی کی حکومت اس سال کے آخر تک اپنی 70 فی صد آبادی کو ویکسین لگانا چاہتی ہے۔

اماراتی حکام کے مطابق ملک میں یکم جنوری کے بعد سے کروناوائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے۔اس کے ساتھ ملک میں ویکسی نیشن کی مہم بھی زورشور سے جاری ہے۔

یواے ای دنیا بھرمیں اب تک کرونا وائرس کی ویکسین کی تقسیم کی شرح کے اعتبار سے پہلے نمبر پرہے۔ملک بھر میں کووِڈ-19 کی ویکسین کی 20 لاکھ سے زیادہ خوراکیں تقسیم کی جاچکی ہیں۔اس طرح یو اے ای میں ہر 100 افراد میں 19۰04 فی صد کو ویکسین کے انجیکشن لگائے جاچکے ہیں۔

اس خلیجی عرب ملک میں شامل سات میں سے چھےامارتوں میں ویکسین لگانے کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔یو اے ای کے مکین اور شہری دبئی ہیلتھ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کی ایپ یا اس کے ٹال فری نمبر 800342 کے ذریعے ویکسین لگوانے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کراسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں