.

یورپی وزرا خارجہ کے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ترکی سے کشیدگی پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرا خارجہ کا اجلاس آج سوموار کے روز برسلز میں منعقد ہور ہا ہے۔ اجلاس میں دیگر علاقائی اور عالمی مسائل پرغور کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام اور ترکی کے ساتھ یورپی ملکوں کی کشیدگی پر بات چیت کی جائے گی۔

ایک یورپی سفارتکار نے ایران سے جوہری معاہدے میں غیر مشروط واپسی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک امریکا اور اس کی نئی انتظامیہ کی ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے پر امید ہیں۔ انہوں نے کیا کہ معاہدے کے لیے صرف جوہری فریم ورک ہی مذاکرات کا فریم ورک ہے۔

اتوار کے روز ترکی نے یورپ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ توقع کی تھی کہ انقرہ اور برسلز کے درمیان بحیرہ روم کے مشرقی کے تنازع پرکشیدگی جلد ختم ہوجائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے رُکن ممالک یونان اور ترکی کے مابین آج سوموار کو مذاکرات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

ہفتے کے روز یونان کے وزیر خارجہ نیکوس ڈینڈیس نے زور دے کر کہا تھا کہ ان کا ملک ترکی کے ساتھ نیک نیتی اور تعمیری اور بلا اشتعال جذبے سے بات چیت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یونانی نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ بات چیت تناؤ کو کم کرنے کا باعث بنے گی اور ترک فریق بھی اسی طرح کے جذبات کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں گے۔