.

دریائے الک نندا اور دریائے بھاگیراتی کا سنگم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے شمال میں واقع ریاست اترکھنڈ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں گھری ہوئی ہے۔ اس ریاست کا پچانوے فی صد حصہ پہاڑی اور پانچ فی صد جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری ریاست میں جابہ جا قدرتی نظارے جلوہ گر ہیں۔

انہی حسین نظاروں میں سے ایک دریائے الک نندا اور دریائے بھاگیراتی کے پانی کے ملاپ یا سنگم کا علاقہ ہے۔ اس علاقے کا نام دیو پریاگ ہے۔ اس مقام سے دونوں دریا مل کر دریائے گنگا میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

دو سو پانچ کلومیٹر طویل دریائے بھاگیراتی کا منبع بارہ ہزار سات سو سترفٹ بلند ی پر واقع ’’گنگوتری گلیشیر‘‘ ہے، جب کہ الک نندا دریا کا منبع ہمالیہ پہاڑی سلسلے میں اکیس ہزار چھے سو چالیس فٹ کی بلندی پر واقع نیل کنٹھ پہاڑ کے دامن میں آٹھ ہزار دو سو فٹ کی اونچائی پر ’’ستوپنتھ گلیشیر‘‘ ہے۔

ہندو دھرم کے دیو مالائی قصوں کے حوالے سے اہم حیثیت رکھنے والے ان دونوں دریائوں کے سنگم کا مقام ایک جانب مذہبی لوگوں کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے، تو دوسری طرف جب بھاگیراتی دریا کا شفاف پانی اور الک نندا دریا کے مٹیالے پانی کی لہریں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو دیکھنے والے کو مبہوت کرکے رکھ دیتی ہیں۔