.

ٹرمپ کے مواخذے کی کوششیں ، بائیڈن کا موقف سامنےآ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں سینیٹ میں انہیں قصور وار ٹھہرانے کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد سامنے نہیں آ سکے گی۔

اس سے قبل پیر کے روز امریکی سینیٹ میں نو ارکان نے ٹرمپ کے مواخذے کے مطالبے کے حوالے سے دستاویز پیش کی تھی۔

امریکی چینل سی این این کے مطابق بائیڈن نے اس امکان پر شکوک کا اظہار کیا کہ سینیٹ میں 17 ریپبلکن ارکان ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیں گے۔ واضح رہے کہ یہ وہ لازمی تعداد ہے جو سینیٹ میں تمام 50 ڈیموکریٹس کی جانب سے ووٹ دینے کی صورت میں درکار ہو گی۔

پیر کے روز سینیٹ میں سرکاری طور پر وہ دستاویز پیش کی گئی جو ایوان نمائندگان نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تادیبی کارروائی کے مطالبے کے لیے منظور کی تھی۔ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے کیپٹول کی عمارت پر دھاوے کے لیے اپنے حامیوں کو اکسایا تھا۔ دارالحکومت واشنگٹن میں یہ دھاوا 6 جنوری کو بولا گیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی سابق صدر کی معزولی کے لیے اقدام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ میں ٹرمپ کے ٹرائل کے آغاز کے لیے 8 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اس سے قبل 13 جنوری کو ایوان نمائندگان کی اکثریت نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ان میں 10 ارکان کا تعلق ریپبلکن پارٹی سے ہے۔