.

امریکا کی واپسی کی صورت میں ایران کو جوہری معاہدے کا احترام کرنا ہوگا: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی ایوان صدر نے منگل کو کہا ہے ایران کو کسی بھی طرح کی اشتعال انگیزی کو روکنا ہوگا اور اگر امریکا ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کی طرف واپس آتا ہے تو ایران کو سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا "احترام" کرنا ہو گا۔

قصر الیزیہ ایک مشیر نے فرانسیسی سفارتی پریس ایسوسی ایشن کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران زور دیا کہ اگر ایرانی مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ تمام فریقین اس معاہدے کی پاسداری کریں توانہیں پہلے اشتعال انگیزی اور احترام سے باز رہنا ہوگا اور جوہری معاہدے کی شرائط کا احترام کرنا ہو گا۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر مجید تخت راونجی نےکہا تھا کہ ان کے ملک اور امریکا کے مابین تعلقات کے معاملے میں ہر چیز کا انحصار صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر ہے۔

این بی سی نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران جوہری مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کیا کرنا چاہتا ہے تو انہوں‌نے کہا کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے ملک نے امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ بات چیت شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتماد سازی کے اقدامات کی ذمہ داری ایران پر نہیں امریکا پر عاید ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اس حوالے سے اب کیا کرتا ہے۔

یہ بیان امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر فرینک میک کینزی کے ان بیانات کےبعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں‌نے خطے کے دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکا میں جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کے نئے باب کا ایک نیا موقع پیدا ہوا ہے۔