.

جنگلی حیات تحفظ کا مرکز ’عروق بنی معارض‘ مملکت میں فطرت کا انمول خزینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صحرائی علاقے الربع الخالی کے مغرب میں واقع ’’عروق بنی معارض‘‘ نامی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ماڈل پناہ گاہ اس لحاظ سے منفرد خصوصیات کی حامل ہے کہ یہاں بغیر پائیلٹ ڈرونز کے ذریعے پناہ گاہ میں چھوڑے گئے جانوروں کی نگرانی اور ماحولیاتی سروے سمیت جنگلی حیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

جنگلی حیات اور سیاحت کے لیے مختص یہ 'ریزرو' 12 ہزار 787 مربع کلومیٹر پھیلا ایک وسیع وعریض علاقہ ہے جو اپنے اندر جنگلی اور قدرتی حیات کا بے پناہ خزانہ محفوظ کیے ہوئے ہے۔ اس کےساتھ اس کا شمار سب سے بڑے ریتلے صحرائے ربع الخالی میں اپنے جادوئی مظاہر اور شاندار نظاروں کی وجہ سے سیاحوں کے مسکن کے طور پر ہوتا ہے۔

اس علاقے میں جنگلی حیات کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں لمبے اور نوکیلے سینگوں والا نایاب ہرن بھی دیکھا گیا ہے۔ اسی جنگلی پناہ گاہ میں معدومیت کے خطرے سے دوچار الریم ہرن، پہاڑی ہرن، عربی شتر مرغ اور جنگلی بھیڑوں کے تحفظ کا پروگرام شروع کیا گیا۔ یہ جاندار پہلے بھی خطے میں موجود تھے مگر وقت کے ساتھ ان کا شکار زیادہ ہونےسے ان کی نسلی کشی ہوئی اور وہ نایاب ہوتے چلے گئے۔ انہیں دوبارہ اس پناہ گاہ میں آباد کیا گیا جس کے بعد اب ان کی نسلیں فطری طریقے سے نشو نما پا رہی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق "عروق بنی معارض" ریزرو میں ایک سےزیادہ طریقوں سے جنگلی حیات کے حفاظتی اسلوب اور طریقے اپنائے گئے ہیں۔ حفاظتی دیواروں اور باڑوں کے بغیر یہ ایک کھلا مقام ہے۔ سعودی نیشنل سینٹر برائے وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ عروق بنی معارض کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنےکے لیے کام کر رہا ہے۔ اسے ہیریٹیج پروگرام جیسے عالمی ثقافتی پروگراموں اور یونیسکو ورلڈ نیچرل ایریا، 'آئی یو سی این' گرین پروٹیکٹڈ ایریاز پروگرام میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عروق بنی معارض تفریح گاہ کو اس کے قدرتی وسائل کی خصوصیات اور سیاحت کے لیے بہترین مقام ہونے کی بہ دولت سعودی وزارت سیاحت نے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر سیاحتی شعبے میں بھی متعدد پروگرامات شروع کیے ہیں۔ یہاں پر سیاحتی تجربات میں مملکت میں جاری 'سرما سیاحتی سیزن' کا تجربہ بھی شامل ہے۔ یہ سیاحتی پروگرام دسمبر 2020ء میں شروع کیا گیا تھا جو مارچ 2021ء کے آخر تک جاری رہے گا۔ اس دوران مملکت میں 17 مقامات کو سیاحت کے لیے کھولا گیا ہے۔ اس پروگرام میں 300 آزمائشی سیاحتی تجربات کیے جائیں گے جن کے لیے حکومت کی طرف سے کثیر سیاحتی پیکیجز متعارف کرائے گئے ہیں۔

عروق بنی معارض ایک صحرائی ماحول کا حامل علاقہ ہونے کے باوجود شاندار سرمائی موسم کا حامل مقام بھی ہے۔ یہاں پر آنے والے سیاح کئی سیاحتی اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں یہاں پر مخصوص ٹریکس پر کاروں کے ذریعے سفاری ٹور، ہائیکنگ، گرم ہوا کے غباروں سے لطف اندوز ہونے، کیمپنگ، ریت کے ڈھیروں پر اسکیئنگ، اونٹوں کی سواری، ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ستاروں کے نظارے، فطری اور جنگلی حیات جیسا کے نایاب پرندوں، لمبے سینگ والے عربی ہرن، شتر مرغ، جنگلی بھیڑوں، شیر، تیتر، گدھ، جنگلی بلیوں اور اور ہمہ نوع اقسام کی صحرائی نباتات سے بھی لطف اٹھا سکتے ہیں۔

پراسرار غاروں اور سیاحتی اہمیت کے حامل مقامات کے انکشافات کے بعد بنی معارض کو ہمہ نوع سیاحتی علاقہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پرانے نقوش اور آثار قدیمہ کا ذخیرہ قرار دیا جانے والا گائوں 'الفائو' یہاں سےزیادہ دور نہیں۔ یہاں پر پائے جانے والے نقوش اور آثار قدیمہ میں سے بعض 400 قبل مسیح کے دور کے بتائے جاتے ہیں۔ یہ آثار قدیمہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب کی وزارت سیاحت نے سرما سیزن میں اس گائوں کو بھی اپنے پروگرام میں شامل رکھا ہے۔