.

یواے ای:ویکسین نہ لگوانے پرقدغن؛سرکاری ملازمین صرف چھٹی لے کر قرنطین کرسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے کرونا وائرس کے تعلق سے سرکاری ملازمین کے لیے نئی رہ نما ہدایات جاری کی ہیں۔ان کے تحت جن سرکاری ملازمین نے خود کو کووِڈ-19 کی ویکسین نہیں لگوائی اور ان کا اس مہلک وائرس کا شکار کسی فرد سے قریبی رابطہ ہوا ہے تو وہ تنہائی اختیار کرنے کی صوت میں اپنی سالانہ چھٹیاں استعمال کرسکتے ہیں۔

یو اے ای کی وفاقی اتھارٹی برائے سرکاری انسانی وسائل نے اپنے ہدایت نامے میں کہا ہے کہ ’’کووِڈ-19 کے مثبت نتائج کے حامل افراد سے قریبی رابطے میں آنے والے سرکاری ملازمین قرنطین کے عرصے میں گھروں سے بھی کام کرسکتے ہیں۔‘‘

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق جن سرکاری ملازمین نے ویکسین نہیں لگوائی اور ان کی سالانہ چھٹیاں ختم ہوچکی ہیں یا درکار تعداد میں ان کی چھٹیاں باقی نہیں رہی ہیں تو ان کا قرنطین کا عرصہ بلا تن خواہ شمار کیا جائے گا۔

جو سرکاری ملازمین ویکسین کی دو خوراکیں لگواچکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے یا وہ کسی متاثرہ شخص سے قریبی رابطے میں آئے ہیں تو انھیں امارات کے صحت حکام کی سفارش کے مطابق بدستور تنہائی میں رہنا چاہیے۔تاہم انھیں اس مقصد کے لیے اپنی سالانہ چھٹیوں کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسی ماہ یو اے ای کی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے لیے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان میں سے جن افراد نے کووِڈ-19 کی ویکسین نہیں لگوائی ہے تو انھیں ہفت واراپنا پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوگا اور ان ٹیسٹوں کی فیس بھی خود ادا کرنا ہوگی۔سرکاری عملہ کے جن ارکان نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوالی ہیں، وہ اس شرط سے مستثنا ہوں گے۔

یو اے ای میں بدھ تک کرونا وائرس کی ویکسین کی بیس لاکھ سے زیادہ خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔یہ تعداد ملک کی کل آبادی کا پانچواں حصہ بنتی ہے۔ یو اے ای کی کل آبادی قریباً 99 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔وہ شہری آبادی کے لیے ویکسین کی دستیابی کے اعتبار سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران میں 50 فی صد سے زیادہ آبادی کو کووِڈ-19 کی ویکسین لگانا چاہتی ہے۔ اس وقت ملک میں چین کی قومی دواساز فرم سائنو فارم کی تیارکردہ ویکسین شہریوں اورمکینوں کو مفت لگائی جارہی ہے۔ البتہ امارت دبئی میں اس کے علاوہ امریکی فرم فائزر اور جرمن بائیو این ٹیک کی مشترکہ طور پر تیار کردہ کووِڈ-19 کی ویکسین بھی لگائی جارہی ہے۔