.

امریکا کا لیبیا میں موجود ترک اور روسی فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں موجود ترکی اور روس کے فوجیوں اور ان کے کرائے کے جنگجوؤں کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا کے قائم مقام سفیر رچرڈ ملز نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیبیا سے متعلق اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے:’’ہم روس ، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام بیرونی پارٹیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لیبیا کی خود مختاری کا احترام کریں اور فوری طور پر اس ملک میں ہر طرح کی فوجی مداخلت بند کردیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے زیراہتمام 23 اکتوبر 2020ء کو طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت تمام غیرملکی فوجیوں اور ملیشیاؤں سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ آیندہ تین ماہ میں لیبیا سے نکل جائیں۔یہ ڈیڈلائن گذشتہ ہفتہ کے روز ختم ہوگئی تھی لیکن اس کے بعد برسرزمین ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جس سے یہ پتا چل سکے کہ روس اور ترکی نے لیبیا سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔

رچرڈ ملز نے مزید کہا :’’ہم اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت ترکی اور روس پر یہ زور دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے فوجیوں کے انخلا کا آغاز کریں اور وہاں سے اپنے بھرتی شدہ غیرملکی گماشتہ جنگجوؤں اورملیشیاؤں کو بھی ہٹائیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے ایک تخمینے کے مطابق اس وقت لیبیا میں قریباً بیس ہزار فوجی اور کرائے کے جنگجو موجود ہیں اور وہ طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کی وفادار فورسز اور اس کے متحارب جنرل خلیفہ حفتر کے زیرقیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہے ہیں۔

وزیراعظم فائزالسراج کے زیر قیادت جی این اے کو ترکی کی جانب سے فوجی امداد مہیا ہورہی ہے جبکہ خلیفہ حفتر کو متحدہ عرب امارات ، مصر اور روس کی حمایت حاصل ہے۔