.

نیوم کے’دا لائن منصوبہ‘ کے انفرااسٹرکچرپر100-150ارب ڈالر لاگت آئے گی:گورنر پِف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مستقبل کے شہر نیوم میں دالائن منصوبہ کے انفرااسٹرکچر پر ایک سو سے ڈیڑھ سو ارب ڈالر تک لاگت آئے گی۔

دالائن منصوبہ کے بارے میں یہ نئی تفصیل سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ (پِف) کے گورنر یاسرالرمیان نے بدھ کو الریاض میں منعقدہ مستقبل سرمایہ کاری اقدام کانفرنس کے چوتھے ایڈیشن میں گفتگو کرتے ہوئے بیان کی ہے۔’’نشاۃ ثانیہ نو‘‘ کے عنوان سے اس دو روزہ کانفرنس میں دنیا کے 94 ممالک سے تعلق رکھنے والے 8000 نمایندے بہ نفس نفیس یا آن لائن شرکت کررہے ہیں۔

یاسرالرمیان نے شرکاء کو بتایا کہ’’نیوم میں دا لائن ایک نیا انقلابی تصور ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعلان کے مطابق اس شہری منصوبہ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شرح صفر ہوگی۔100 فی صد قابل تجدید توانائی استعمال کی جائے گی۔آیندہ نسلوں کے لیے ہم شہری ڈیزائن کی شکل وصورت تبدیل کردیں گے۔اس کا انفرااسٹرکچر 100 سے 150 ارب ڈالر تک تعمیر ہوگا۔اس کے بعد اس شہر کا دوسرا مرحلہ آغاز ہوگا۔‘‘

سعودی ولی عہد نے گیارہ جنوری کو مستقبل کے شہر نیوم میں ’’دا لائن‘‘ کے نام سے ایک نیا شہری منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ مستقبل میں شہری سوسائٹیوں کا ایک منفرد جدید ماڈل ہوگا اور یہ جدت اور فطرت کے حسین امتزاج کا غماز ہوگا۔

دا لائن 170 کلومیٹر پر محیط ہائپر سے مربوط ایک نئی پٹی ہوگی۔اس کو فطرت کے عین مطابق ڈیزائن کیا جائے گا اور اس میں کاریں اور شاہراہیں نہیں ہوں گی بلکہ وہاں کمیونٹیوں کو مصنوعی ٹیکنالوجی سے لیس اور ہم آہنگ کیا جائے گا۔اس کی بدولت وہاں کے مکین اور کاروباریوں کو اپنا معیارِزندگی بلند کرنے کے مواقع میسرآئیں گے۔

دالائن کا منصوبہ بھی سعودی عرب کے ویژن 2030ء کا حصہ ہے۔اس سے ملازمتوں کے تین لاکھ 80 ہزار نئے مواقع پیدا ہوں گے اور اس کی بدولت سعودی عرب کی مجموی قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں 2030ء تک 180 ارب ریال (48 ارب ڈالر) کا اضافہ ہوگا۔

یہ 10لاکھ مکینوں کا مسکن شہر ہوگا اور یہ 170 کلومیٹر طویل ہوگا۔اس کے تحت نیوم میں 95 فی صد فطرت کو محفوظ بنایا جائے گا۔اس میں کوئی کاریں ہوں گی اور نہ شاہراہیں۔کاربن کا اخراج بھی صفرہوگا۔

سعودی ولی عہد کے بہ قول ’’دالائن کا منصوبہ شہری ترقی کا ایک نیا تصورپیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اس کے ڈیزائن میں لوگوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔شاہراہوں کے کسی انفرااسٹرکچر کے بغیر گذشتہ 150 سال میں یہ پہلا منصوبہ ہوگا۔‘‘

عام شہروں میں ذرائع نقل وحمل کے برعکس دالائن منصوبہ میں سفری وقت کو کم کرنے کے لیے تیزرفتار سفر کے نئے حل پیش کیے جائیں گے تاکہ اس کے مکین اپنی صحت پر توجہ مرکوز کرسکیں۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اس نئے شہر میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ صرف 20 منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔

نیوم منصوبہ کے پائیدارترقی کے تصور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دالائن میں صاف توانائی مہیا کی جائے گی۔یہ آلودگی سے پاک ،صاف اور ماحول دوست ہوگی۔اس منصوبہ پر تعمیراتی کام اس سال کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہوجائے گا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017ء میں نیوم کے منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔یہ ہمہ نوع اعلیٰ ٹیکنالوجی کا حامل مستقبل کی نسل کا شہر ہوگا اور یہ مملکت میں جدّت طرازی ، تجارت اور تخلیقیت کا عالمی مرکز ثابت ہوگا۔اس شہر کے نام کے پہلے تین حروف نیو (این ای او)لاطینی لفظ نیو(این ای ڈبلیو) سے اخذ کیے گئے ہیں اور آخری میم (ایم) عربی لفظ مستقبل کا مخفف ہے۔

نیوم سعودی عرب کے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ان میں بحیرۂ احمر کا ترقیاتی منصوبہ اور قدیہ بھی شامل ہیں۔ان سب کا مقصد سعودی عرب کی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینا ہے اور اس کی معیشت کو متنوع بنانا ہے تاکہ تیل کی آمدن پر انحصار کم کیا جاسکے۔