.

سعودی عرب میں کووِڈ-19 کے تعلق سے مزید قدغنیں لگائی جاسکتی ہیں: وزیرصحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر لوگوں نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو انھیں روکنے کے لیے مزید بھی قدغنیں لگائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے اتوار کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’’ہم نے حال ہی میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ملاحظہ کیا ہے۔ایسا ہرقسم کے اجتماعات کی وجہ سے ہورہا ہے۔اگر لوگوں نے اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہیں کیا تو ہم کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خطرے سے دوچار ہوں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ مملکت میں ہرفرد کے تعاون اورعزم کی بدولت کروناوائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے تمام شعبوں کی کوششوں میں مدد ملی ہے۔ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ اگر ہم عزم کا اظہار نہیں کرتے تو بلاشبہ ہمیں معاشرے کے تحفظ کے لیے مزید احتیاطی اقدامات کرنا پڑیں گے۔

انھوں نے تمام لوگوں پر زوردیا ہے کہ ’’وہ حالیہ اقدامات کو سنجیدگی سے لیں اور چہرے پر ماسک پہننے سمیت تمام سفارشات کی پاسداری کریں،سماجی فاصلہ اختیار کریں،حفظانِ صحت کے اچھے اصولوں کو اختیار کریں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت مصافحہ سے گریز کریں۔‘‘

واضح رہے کہ سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہورہا ہے جبکہ 3 جنوری کو صرف 82 کیسوں کی تشخیص ہوئی تھی۔

سعودی عرب میں شہریوں اور مکینوں کو کووِڈ-19 کی ویکسین مفت لگانے کے لیے مہم بھی زورشور سے جاری ہے لیکن امریکا کی دوا ساز فرم فائزر کی جانب سے ویکسین کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے یہ مہم تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔

سعودی حکام نے پہلے 31 مارچ کو بین الاقوامی ٹریول کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن جمعہ کو اس تاریخ کو17 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ویکسین کی عالمی سطح پردستیابی میں تاخیر اور کرونا وائرس کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔