.

کیا افغانستان میں غیرملکی فوجی مئی کے بعد بھی موجود رہیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے چاراعلیٰ عہدے داروں نے کہا ہے کہ افغانستان میں بین الاقوامی فوجی طالبان سے معاہدے میں انخلا کی مقرر شدہ ڈیڈلائن کے بعد بھی تعینات رہ سکتے ہیں۔

امریکا اور طالبان کے درمیان طے شدہ دوحہ معاہدے کے مطابق تمام غیرملکی فوجیوں کا افغانستان سے اس سال مئی تک انخلا مکمل ہوگا۔طالبان جنگ زدہ ملک سے تمام غیرملکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور امریکا کی جانب سے ان کے انخلا کی ہامی بھرنے کے بعد ہی وہ امن معاہدے پر آمادہ ہوئے تھے۔

نیٹوکے ایک عہدے دار نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اتحادیوں کا اپریل کے آخر تک مکمل انخلا نہیں ہوگا کیونکہ تمام شرائط پوری نہیں ہوئی ہیں۔امریکامیں نئی انتظامیہ کے برسراقتدار آنے کے بعد پالیسی میں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔‘‘

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گذشتہ سال فروری میں طالبان کے ساتھ دوحہ میں سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس میں مئی تک تمام غیرملکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا پر زوردیا گیا تھا۔اس کے بدلے میں طالبان مزاحمت کاروں نے بعض سکیورٹی ضمانتوں کو پورا کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

سابق صدر ٹرمپ نے اس سمجھوتے کو سراہا تھا اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرکے صرف ڈھائی ہزار کردی تھی۔افغان حکومت اس سمجھوتے میں شامل نہیں تھی لیکن اب اس کے نمایندے اسی سمجھوتے کی ایک شق کے تحت گذشتہ سال ستمبر سے دوحہ میں طالبان کے ساتھ افغانستان میں مستقبل کے نظم ونسق سے متعلق بات چیت کررہے ہیں لیکن ابھی تک برسرزمین تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اور نہ ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوسکی ہے۔

نیٹو کی خاتون ترجمان اوآنا لنگیسکیو کا کہنا ہے کہ ’’فوجی اتحاد کا کوئی رکن ضرورت سے زیادہ افغانستان میں قیام نہیں چاہتا ہے لیکن ہم اس بات میں واضح ہیں کہ ہماری موجودگی مشروط ہوگی۔اتحادی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیں گے اور مستقبل سے متعلق مشاورت کریں گے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’اس وقت امریکیوں سمیت قریباً 10 ہزار نیٹو فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔مئی تک اتنی ہی تعدادمیں نیٹو فوجی وہاں تعینات رہیں گے لیکن اس کے بعد کی صورت حال ابھی واضح نہیں ہے۔‘‘

کابل اور بعض غیرملکی حکومتوں اور ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ طالبان بعض شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں،ملک میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور وہ القاعدہ سمیت دوسرے جنگجو گروپوں سے اپنا ناتا توڑنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ طالبان القاعدہ سے تعلق کی تردید کرتے ہیں۔

دریں اثناء صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے ٹرمپ انتظامیہ کے طالبان سے سمجھوتے کا جائزہ شروع کردیا ہے۔ پینٹاگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’طالبان نے تشدد کے خاتمے سے متعلق اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کیا ہے لیکن واشنگٹن بدستور امن عمل کو جاری رکھنے کے لیے پختہ عزم رکھتا ہے اور اس نے ابھی مستقبل میں فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘‘

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک نمایندے کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن ’’ہمیشہ کی جنگوں‘‘ کا ذمہ دارانہ اختتام چاہتے ہیں لیکن وہ امریکیوں کو دہشت گردی اور دوسرے خطرات سے بچانا بھی چاہتے ہیں۔