روسی ساختہ سپوتنک پنجم ویکسین کووِڈ-19 کے مقابلے میں 91۰6 فی صد مؤثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس کی تیارکردہ ویکسین سپوتنک پنجم کووِڈ-19 کے مرض کے خلاف 91۰6 فی صد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ جریدے دا لانسیٹ میں منگل کو شائع شدہ ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آزاد ماہرین نے اس ویکسین کے 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کی نگران مصنفہ اور روس کے جمالیا قومی مرکز برائے وبائی امراض اور مائیکروبائیالوجی کی ماہر انا دولژیکوفا کا کہنا ہے کہ’’ابتدائی حاصلات سے یہ ظاہر ہوا ہے،سپوتنک پنجم کی دو خوراکیں بہت زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور حتمی کلینکی جانچ کے دوران میں 18 سال سے زیادہ عمر کے شرکاء میں اس نے بہتر نتائج دیے ہیں۔‘‘

روس قبل ازیں اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دے چکا ہے اور یہ وہاں لگائی جارہی ہے۔اس نے سپوتنک پنجم کی کلینکی آزمائش کے نتائج کی بنیاد پر کہا تھا کہ یہ کووِڈ-19 کے مریضوں کے علاج میں 95 فی صد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

روس کی وزارتِ صحت کے تحت جمالیا قومی تحقیقاتی مرکز برائے وبائی امراض اور مائیکروبیالوجی نے اس سے پہلے اس ویکسین کے تحفظ اور مؤثر ہونے سے متعلق نتائج کو جنوری میں شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس ویکسین کی تحقیق اور تیاری کے لیے روس کے خود مختار دولت فنڈ(رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ) نے رقوم مہیا کی ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سپوتنک پنجم کی ایک خوراک کی لاگت 10 ڈالر سے بھی کم ہوگی اور یہ فروری 2021ء سے دستیاب ہوگی۔ایک فرد کو اس ویکسین کی دو خوراکیں لگانے کی ضرورت ہوگی اور ان دونوں کی کل قیمت 20 ڈالر سے بھی کم ہوگی۔

روسی فنڈ کے مطابق سپوتنک ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی دوسری غیرملکی ویکسینوں کے مقابلے میں دُگنا یا اس سے بھی زیادہ سستی ہوگی۔روسی شہریوں کو یہ ویکسین مفت لگائی جائے گی۔

اس ویکسین کی خشک شکل میں بھی پیداوار بھی شروع کی جاچکی ہے۔اس کو دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔اس طرح اس کی عالمی مارکیٹوں میں ترسیل اور تقسیم آسان ہوگی اور اس کو دور دراز ایسے علاقوں تک بھی پہنچایا جاسکے گا جہاں کا درجہ حرارت غیر مستحکم رہتا ہے۔

روس نے گذشتہ سال نومبر میں کووِڈ-19 کے علاج کے لیے اپنی تیار کردہ اس ویکسین کی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں رجسٹریشن اور پری کوالیفکیشن کا عمل تیز کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔خود روسی حکومت نے اس ویکسین کی 11 اگست کو منظوری دی تھی اور اس کو سوویت دور کے سیٹلائٹ سپوتنک کا نام دیا تھا۔ روسی صدر ولادی میر پوتین نے خود اس ویکسین کی منظوری کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’روس یہ مہم سر کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ویکسین کی تیاری روس کی سائنس میں مہارت کا بھی ثبوت ہے۔‘‘

تاہم بعض مغربی سائنس دانوں نے روس کی تیار کردہ اس ویکسین کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا اور بعض نے خبردار کیا تھا کہ تیز رفتاری سے اس کی منظوری کا عمل خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،اس لیے اس کی مزید کلینکی جانچ کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں