مصری نژاد یہودی صحافی کا بیٹا ایران کے لیے جوبائیڈن کا مندوب مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک مصری نژاد رابرٹ مالے کو ایران کے لیے امریکا کا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔

رابرٹ مالے سنہ 1963ء کو امریکا میں پیدا ہوا۔ اس نے امریکا میں ایک وکیل اور تنازعات کے حل میں معاون کے طور پر کام کیا۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں قائم بین الاقوامی کرائسز گروپ کے مشرق وسطیٰ وشمالی افریقا کے پروگرام کے ڈائریکٹر کے طور پرخدمات انجام دیں۔ اس کے پورٹوفولیو میں سابق صدر بل کلنٹن کے معاون خصوصی کے ساتھ کام بھی شامل ہے۔ رابرٹ میلے نے امریکی قومی سلامتی کونسل کے شعبہ انسانی حقوق میں خدمات انجام دیں اور ساتھ ہی وہ امریکا کی 'پیس ٹیم' کے بھی رکن رہ چکے ہیں۔

رابرٹ مالے کا تعارف کافی دلچسپ ہے۔ اس کے والد سائمن مالے ایک مصری یہودی تھے جن کے پاس شام کی شہریت بھی تھی۔ وہ تیسری دنیا کے مسائل کے حل کے پرزور حامی اور استعماری نظام کے مخالف ایک صحافی تھے۔ انہیں سابق مصری صدر جمال عبدالناصر کا بھی حامی خیال کیا جاتا تھا۔

سائمن مالے مئی 1923ء کو مصر میں قیام پذیر ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے دوران ہی انہوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ جمال عبدالناصر کے قائم کردہ اخبار'الجمہوریہ' میں‌کام کیا۔ یہ اخبار سنہ 1952ء کے انقلاب کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ یہ اخبار بائیں بازو کا حامی تھا اور اس نے مصری انقلاب اور اس کے بعد جمال عبدالناصر کی بہ طور صدر نامزدگی کی حمایت کی تھی۔

امریکا میں آمد کے بعد سائمن مالے کی ملاقات اقوام متحدہ میں کام کرنے والی باربرا سے ہوئی۔ وہ اقوام متحدہ میں الجزائر کی نیشنل فریڈم فرنٹ کی نمائندہ تھی۔ وہیں دونوں نے ایک دوسرے کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔

سنہ 1969ء کو مالے فرانس چلے گئے جہاں انہوں نے 'افریکاسیا' کے نام سے ایک جریدہ شائع کیا۔ اس جریدے میں تیسرے دنیا کے مسائل پربحث کی جاتی۔ وہ استعماری طاقتوں کے خلاف اور مقبوضہ اقوام کو آزادی دلانے کےحامی تھے۔ انہوں نے سابق فلسطینی رہ نما یاسر عرفات اور کیوبا کے فیدل کاسترو کے لمبے چوڑے انٹرویوز بھی شائع کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں