.

ایران پیرس میں حزب اختلاف کے گروپ پر بم حملے کی سازش کا ذمے دار ہے:وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران 2018ء میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حزب اختلاف کے ایک جلاوطن گروپ کی ریلی پر بم حملے کی کوشش کا ذمے دار ہے۔ایک ایرانی سفارت کار اور تین دوسرے افراد کو حزب اختلاف کی ریلی پر بم حملے سازش پر بیلجیئم کی ایک عدالت نے ماخوذ کیا ہے۔

اس مقدمے میں ایک وکیل رِک وین ریوسل نے العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ’’ریاستِ ایران کی طرف سے حزب اختلاف (قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران) کے ایک اجتماع کے موقع پر بم نصب کیا گیا تھا۔یہ بم ایک سفارت کار نے نصب کیا تھا۔اس جاسوس نے متعدد دوسرے افراد کوبھی اس سنگین حملے کے لیے بھرتی کیا تھا۔میرے خیال میں ایران کے علم کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہوسکتا۔‘‘

بیلجیئم کی ایک عدالت جمعرات کو ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی اور تین دیگرایرانیوں کے خلاف اس مقدمے میں اپنا حتمی فیصلہ سنا رہی ہے۔انٹورپ میں واقع عدالت نے پہلے جنوری کے آخر میں فیصلہ سنانا تھا لیکن اس کو 4 فروری تک مؤخر کردیا گیا تھا اور اس کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی تھی۔

بیلجیئم کی اس عدالت نے جولائی 2020ء میں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں متعیّن سابق ایرانی سفارت کاراسداللہ اسدی سمیت چار مشتبہ افراد کے خلاف بم حملے کی سازش کے الزام میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔یورپی یونین کے کسی رکن ملک میں کسی ایرانی سفارت کار کے خلاف پہلی مرتبہ دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت کی جارہی ہے۔

بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق’’ان چاروں افراد پر دہشت گردی کے ذریعے قتل کی کوشش اور ایک دہشت گرد تنظیم کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔‘‘

یاد رہے کہ جولائی 2018ء میں بیلجیئم کے انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹروں نے 30 جون کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں ایرانی حزبِ اختلاف کے جلا وطن گروپ قومی کونسل برائے مزاحمتِ ایران ( این سی آر آئی)کی ایک ریلی پر بم حملے کی سازش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا تھا۔اس ریلی سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی سمیت متعدد یورپی سیاست دانوں نے بھی خطاب کیا تھا۔

اسی دن برسلز کے علاقے میں ایرانی نژاد ایک بیلجیئن جوڑے کو گاڑی پر جاتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے پکڑ لیا تھا۔ان کے قبضے سے آدھا کلو خام دھماکا خیز مواد ٹی اے ٹی پی اور ایک ڈیٹونیٹر برآمد ہوا تھا۔

اس کے بعد تفتیش کاروں نے دو اور مشتبہ افراد کی شناخت کی تھی۔ان میں ویانا میں متعیّن ایرانی سفارت کار اسداللہ اسدی کو جرمنی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ وہاں چھٹیاں گزارنے گئے تھے۔انھیں جرمنی نے اکتوبر 2018ء میں بیلجیئم کے حوالے کردیا تھا۔

اسداللہ اسدی ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں تھرڈ قونصلر تعینات تھے۔فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ وہ جنوبی یورپ میں ایرانی انٹیلی جنس کے انچارج تھے اور تہران سے ملنے والے احکامات پر عمل درآمد کرتے تھے۔بیلجیئم کی اسٹیٹ سکیورٹی سروس (وی ایس ایس ای) کے سربراہ ژاک رئیس نے پراسیکیوٹر کے نام 2 فروری 2020ء کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ’’اس حملے کی منصوبہ بندی ایران اور اس کی قیادت کی سرپرستی میں کی گئی تھی اور یہ اسدی کی کوئی ذاتی کارروائی نہیں تھی۔‘‘

فرانس ، جرمنی اور بیلجیئم کی سکیورٹی فورسز نے ایک مشترکہ کارروائی کے ذریعے اس حملے کو ناکام بنایا تھا۔وین ریوسل کا کہنا تھا کہ ’’ریاستِ ایران ایک انتظامی باڈی کی حیثیت سے اس حملے کی ذمے دار ہے اور اس کو دہشت گردی کو اسپانسر کرنے والی ریاست قراردیا جاسکتا ہے۔‘‘

اس وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسداللہ اسدی ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں تھرڈ قونصلر تعینات تھے۔انھوں نے نہ صرف ایران سے ملنے والے احکامات پر عمل درآمد کیا تھا بلکہ بم نصب کرنے کے لیے دوسرے لوگوں کو بھی بھرتی کیا تھا۔ویانا میں تعیناتی کے دوران اسداللہ اسدی کا مشن بیرون ملک ایرانی حزب اختلاف کو کنٹرول کرنا تھا۔

ایران نے اس حملے میں ملوّث ہونے کی تردید کی تھی۔لیکن وین ریوسل نے العربیہ کو بتایا ہے کہ تہران نے اس گرفتار سفارت کار سے لاتعلقی اختیار نہیں کی تھی اور سفارت خانے سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدے دار جیل میں اس سے ملتے رہے ہیں۔