.

جوزف بائیڈن یمن میں امریکا کی جانب سے’’جارحانہ کارروائیوں‘‘کی حمایت ختم کردیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا یمن کے بارے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر نظرثانی کررہا ہے اور وہ وہاں’’جارحانہ جنگی آپریشنز‘‘ کی حمایت کے خاتمے کا اعلان کردے گا۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلی وان نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ’’صدر جوزف بائیڈن یمن میں جارحانہ کارروائیوں کے لیے امریکا کی حمایت کے خاتمے کا اعلان کردیں گے۔‘‘

انھوں نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق کی ہے کہ صدر بائیڈن یمن کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کا تقرر کررہے ہیں۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ امریکی صدر نے سفارت کار ٹموتھی لنڈرکنگ کو یمن کے لیے اپنا ایلچی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ اس سے پہلے سعودی دارالحکومت الریاض میں امریکی سفارت خانے میں سینیر عہدے دار تعینات تھے۔

جب سلی وان سے اس تقرر سے متعلق پوچھا گیا کہ کیا اس کے بارے میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے تو انھوں نے اس کا ہاں میں جواب دیا اورکہا کہ ’’ہم کسی کو حیران نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ امریکا خطے میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے رابطے میں ہے اور وہ صدر کے اس فیصلے کو سمجھتے ہیں۔

صدر بائیڈن یمن کے بارے میں امریکا کی پالیسی سے متعلق آج تفصیلی اظہارخیال کررہے ہیں۔ مشیر قومی سلامتی کونسل نے بتایا کہ ’’صدر یمن میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری میں امریکا کے مزید فعال کردار اورشرکت کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔‘‘