.

امریکی قومی سلامتی کونسل میں ایران کا جوہری پروگرام زیر بحث آئے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاؤس میں آج جمعے کے روز ایران کے جوہری پروگرام پر بحث کے لیے قومی سلامتی کونسل کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے۔

خبروں سے متعلق امریکی ویب سائٹ Axios نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اجلاس میں زیر بحث آنے والا ایک مرکزی نقطہ یہ ہو گا کہ آیا جوہری معاہدے کی جانب واپسی کا سفر جون میں ایرانی صدارتی انتخابات سے قبل کیا جائے یا پھر انتخابات کے بعد تک انتظار کیا جائے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں یک طرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔ یہ معاہدہ جولائی 2015ء میں ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان طے پایا تھا۔

بدھ کے روز امریکا میں تمام قومی سیکورٹی اداروں کا ایک اجلاس ہوا تھا۔ اسی طرح قومی سلامتی کے نائب مشیر جان وینر نے اسی نوعیت کے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اجلاس میں مشرق وسطی کے امور پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔

توقع ہے کہ آج امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلینکن بھی ایک ورچوئل اجلاس کا انعقاد کریں گے۔ اجلاس میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ شرکاء کے بیچ کئی معاملات زیر بحث آئیں گے جن میں ایران کا جوہری معاملہ شامل ہے۔

اس سے قبل فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں نے جوہری معاملے میں خود کو ایک غیر جانب دار وساطت کار کے طور پر پیش کیا تھا۔ پیرس میں ایک وڈیو کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ "ہ؛میں ایران کے ساتھ مذاکرات میں ایک نئے مرحلے کی کامیابی کی اشد ضرورت ہے۔ میں امریکا کی جانب سے کسی بھی منصوبے کی سپورٹ کے لیے اپنے بس میں ہر ممکن کوشش کروں گا۔ میری کوشش ہے کہ اس بات چیت میں ایک شفاف وساطت کار بنوں ... وقت آ گیا ہے کہ نئے مذاکرات کیے جائیں کیوں کہ ایران جوہری ہتھیار کے حصول کے قریب آ رہا ہے۔ تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے ساتھ نمٹنے اور علاقائی استحکام کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے"۔

اس سے قبل یورپی اور مغربی سفارت کاروں نے بتایا تھا کہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے بیک وقت تجویز دی ہے کہ اقتصادی فائدوں کے مقابل ایران کی جوہر معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے"۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن انتخابات جیتنے کے فورا بعد یہ کہہ چکے ہیں کہ " اگر ایران جوہری معاہدے کی سختی سے پاسداری کی طرف لوٹ آتا ہے تو امریکا بھی واپس آ جائے گا"۔